خطابات نور — Page 239
گناہ کی وجہ سے میری جیب خالی ہے تو اس کوپرُ کر۔یا بخل کی وجہ ہے تو مجھے اس عادت کے عذاب سے نجات دے اور اس سوالی کو یا توتوفیق اور رزق عطا کر جو کسی گناہ کی وجہ سے تنگی کا زیر بار ہے۔یا اگر اس کے گھر میں روپیہ ہے تو اس پر رحم کر کہ اس حرص کے عذاب سے نجات پاوے۔پانچواں مظہر ہے تقویٰ کا رقاب، مثلاًقرضہ۔ڈگری غلامی والے کودیوے۔یہ تقویٰ کے مظہر ہیں اموال پر۔۱۔وَاِقَامِ الصَّلوٰۃ۔صبح کا وقت ہے اور سردی کا موسم ہے۔رات کو احتلام ہو گیا ہے اور صبح کی اذان ہوئی ہے۔نماز پڑھنی ہے۔پھر چستی سے اٹھ کر ٹھنڈے پانی سے غسل کرتا اور نماز میں جا کر شامل ہوتا ہے۔علیٰ ہذاالقیاس عشاء کا وقت ہے یا عصر کا وقت ہے کہ دوکان پر خریداروں کا جمگھٹا لگا ہوا ہے کہ مسجد سے اذان کی آواز آئی ہے اور یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مسجد کو دوڑتاہے اسی واسطے صبح اور عشاء کی نمازمیں منافق کسل کا ہلی کرتا ہے۔۲۔وَاِیْتَآئِ الزَّکوٰۃ۔اپنے اموال میں حصص مقرر کرتا ہے۔۳۔۔اپنے معاہدوں میں وفاداری سے کام لیتا ہے۔۴۔الْبَاسَآئِ وَالضَّرَّآئِ۔بیماری اور مقدمہ اور غربت وافلاس۔یہ تین وقت انسان کو بہت مشکل ہوتے ہیں۔ہر آدمی اس پر غور کرے کہ ان تین وقتوں میں ، ہمت ، حوصلہ، استقلال اور جوان مردی سے کام لے۔یہ تقویٰ کے نشان ہیں اوران نشانوں والے شخص کو متقی کہتے ہیں اب تم نے اس آیت کے معنے سمجھ لئے ہوں گے۔پس اس طرح انسان خدا کا محبوب بنتا ہے اب وقت ختم ہو گیا ہے اور نماز کا وقت آگیا ہے۔باقی پھر سہی۔ہاں سامان تقویٰ بتلا دیتا ہوں۔دعا۔نیک صحبت اور صدقہ وخیرات دینا۔یہ سامان ہیں۔اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق عطا کرے۔آمین (الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۹تا ۱۱) ٭…٭…٭