خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 238 of 660

خطابات نور — Page 238

کرتے ہیں یہ ان میں تقویٰ کا ثبوت ہوتا ہے اور وہ شخص دیتا کہاں ہے تم لوگ میرے رشتہ داروں سے واقف نہیں میرے حالا ت جوانی سے واقف نہیں۔پرمیرے رشتہ دار خوب واقف ہیں۔اس لئے خدا نے حکم دیا ہے کہ ۱۔ما ل سے رشتہ داروں کی خبر لو۔جب انسان دیکھتا ہے فلاں میرے رشتہ دار نے میرے بچہ کو مارا تھا فلاں نے مجھے گالی دی تھی وغیرہ وغیرہ۔تو اس کا دل ایسے رشتہ داروں کو چیز دینے سے تعرض کرتا ہے۔پر خدا کے حکم کے سامنے ان باتوں کی پرواہ نہ کر کے اس کی پرورش کرتا ہے یہ اس تقویٰ کا نتیجہ ہے۔پھر ۲۔اموال کے خرچ کرنے میںانسان یہ خیال کرتاہے کہ یہاں سے مجھے بہت کچھ عوض میں ملے گا۔مجھے یہ عزت ملے گی اورخدا فرماتا ہے کہ قرابت کے بعد مال یتیموں کو دو۔کیونکہ یتیم سے تو بدلہ کی امید نہیں اور یہ مظہر بنتا ہے تقویٰ کا۔پھر تیسری ایک اور جگہ ہے مال کے خرچ کرنے کی۔ایک شخص درزی ہے اور اس کے پاس سوئی دھاگہ اور قینچی نہیں وہ سکون کی حالت میں ہے کا م نہیں کر سکتا۔جب تک اس کے پاس سامان نہ ہو۔پس سامان بنو ا دینا مسکین کی خبر گیر ی ہے۔۴۔پھر مسافروں کو مشکلات پیش آتے ہیں اور ہم ان مشکلات سے خوب واقف ہیں۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ہاتھ پھیلانے کی حقیقت کو بھی نہیں جانتے۔پس مسافر نوازی بھی تقویٰ کی راہ ہے پانچ ہی اصول تقویٰ کے بتلائے ہیں اور پانچ ہی ظاہر نتائج تقویٰ کے بتلائے ہیں پھر سائل پر عجیب حالت ہے۔ایک شخص سوال کرتا دوسرا اس کو کچھ دیتا تو نہیں پر کہتا کہ اس کے پاس تو ہزاروں روپیہ ہیں۔پر یہ خیال نہیں کرتا کہ ہر ایک شخص کو دنیا میں کسی نہ کسی موقع پر ضرور سوال کی ضرورت پڑی ہے۔سیّد عبد القادر جیلانی کہتے ہیں کہ جب سوالی آوے تو چار باتوں پر خیال کرلیا کرو۔۱۔کبھی تو مسئول کی جیب واقعی خالی ہے اور دے نہیں سکتا۔۲۔کبھی جیب تو پُر ہوتی پر بخل کی عادت اس کو نکالنے نہیں دیتی۔اسی طرح پھر سائل کی دو حالتیں ہیں۔۱۔کبھی تو واقعی اس کے پاس کچھ نہیں اور وہ سوال پر مجبور ہوا ہے۔اور کبھی اس کو ضرورت نہیں پر حرص نے دست سوال پڑھایا ہے۔اب اگر یہ اس کو دیتا نہیں تو اس کا سوال لغو گیا۔پس سید لکھتے ہیں کہ یہ شخص خدا سے استغفار کرے۔ یہ مغفرت کے وہ معنے فرماتے ہیں۔استغفار کہ یا الٰہی اگر کسی