خطابات نور — Page 185
جاوے گی میں نے اس کو یہی جواب دیا کہ مجھے محض اولاد کی ضرورت نہیں بلکہ سعادت مند اولادکی ضرروت ہے اگر اس کا کوئی نسخہ تمہارے پاس ہو تو میں کئی ہزار روپیہ دینے کو تیار ہوں اس کا جواب اس نے کچھ نہ دیا۔(ایڈیٹر۔یہ واقعہ بالکل درسست اور صحیح ہے) غرض میں نے اس لدھیانوی معترض کی تحریر کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا اور اس پر کوئی توجہ نہ کی مگر میرے آقا امام نے اس پر توجہ کی تو اس کو وہ بشارت ملی جو انوار الاسلام کے صفحہ ۲۶ پر درج ہے اور پھر اس کے چند برس بعد یہ بچہ جس کا نام عبد الحئی ہے پیدا ہوا۔اسی کشف کے مطابق اس کے جسم پر بعض پھوڑے نکلے جن کے علاج میں میری طبابت گرد تھی۔اس کو ان پھوڑوں کے باعث سخت تکلیف تھی اور وہ ساری رات اور دن بھر تڑپتا اور بے چین رہتا جس کے ساتھ ہم کو بھی کرب ہوتا مگر ہم مجبور تھے کچھ نہ کر سکتے تھے ان پھوڑوں کے علاج کی طرف بھی اس کشف میں ایماء تھا اور اس کی ایک جز ہلدی تھی اور اس کے ساتھ ایک اور دوائی تھی جو یاد نہ رہی تھی ہم نے اس کے اضطراب اور کرب کو دیکھ کر چاہا کہ ہلدی لگائیں آپ نے کہا کہ میں جرأت نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا دوسرا جزو یاد نہیں مگر ہم نے غلطی کھائی اور ہلدی لگادی جس سے وہ بہت ہی تڑپا او ر آخر ہم کو وہ دھونی پڑی اس سے ہمارا ایمان تازہ ہو گیا کہ ہم کیسے ضعیف اور عاجز ہیں کہ اپنے قیاس اور فکر سے اتنی بات نہیں نکال سکے اور یہ مامور اور مرسلوں کی جماعت ایک مشین اور کل کی طرح ہوتے ہیں جس کے چلانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے اس کے بلائے بغیر یہ نہیں بولتے غرض میرا ایمان ان نشانوں سے بھی پہلے کا ہے اور یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو نشان کے بغیر نہ چھوڑا سینکڑوں نشان دکھا دئیے اور خود میرے ہی گھر میں نشان موجود ہے جس کا میں نے ذکر بھی کیا ہے۔یہ بات بھی یادرکھو کہ جو لوگ اپنا ایمان کسی نشان سے مشروط رکھتے ہیں وہ ٹھوکر کھاتے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو آزمانا چاہتے ہیں اور اس سوء ادبی اور جرأت کی سزا ان کو یہ ملتی ہے کہ وہ محروم رہ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اقتراحی معجزات مانگتے ہیں ان کو کوئی نشان نہیں دیا جاتا۔میں نے اب بھی ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اس قسم کے اعتراض اور جرأت کیا کرتے ہیں کہ اتنے عرصہ میں فلاں قسم کا عذاب ہم پر آجائے وہ اللہ تعالیٰ کو اپنی عقل اور حد کے پیمانہ میں محدود کرنا چاہتے ہیں اور اس پر حکومت کی خواہش کرتے ہیں حالانکہ اَ (یوسف:۲۲)