خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 184 of 660

خطابات نور — Page 184

جواب ہی نہیں دیتا اگر وہ کسی ایک سے بھی بولتا تو کم از کم یہ الزام اٹھ جاتا۔جو لوگ یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اب کسی سے کلام نہیں کرتا مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ بچھڑے خدا پر ایمان لائے ہیں نہ کہ متکلم خدا پر! وہ ہر گز نہیں مانتے کہ وہ (الفاتحۃ:۲تا۴ ) خدا ہے۔ایک نیچری کہتا ہے کہ دُعاؤں کا کچھ نتیجہ اور اثر نہیں اس قسم کا اعتقاد رکھنے والا بھی خدا کو بچھڑا ہی مانتا ہے اسلام کے خدا پر وہ یقین نہیں لاتا جس کی بابت یہ اعتقاد رکھنا ضروی ہے کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے یہ سچ فرمایا۔اُ (المؤمن:۶۱)۔غرض انسان اسفار سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا جب تک معلّم ، مزکّی موجودنہ ہو۔اگر ساری دانش اور قابلیت کتابوں پر منحصر ہوتی تو میں سچ کہتا ہوں کہ میں سب سے بڑھ کر تجربہ کار ہوتا کیونکہ جس قدر کتابیں میں نے پڑھی ہیں بہت تھوڑے ہوں گے جنھوں نے اس قدر مطالعہ کیا ہو اور بہت تھوڑے ہوں گے جن کے پاس اس قدر ذخیرہ کتب کا ہوگا مگر میں یہ بھی سچ کہتا ہوں کہ وہ ساری کتابیں اور سارا مطالعہ بالکل رائیگاں اور بے فائدہ ہوتا اگر میں امام کے پاس اور اس کی خدمت میں نہ ہوتا۔مجرد کتابوں سے آدمی کیا سیکھ سکتا ہے جب تک مزکّینہ ہو۔اب میری حالت یہ ہے کہ جبکہ میں نے محض خدا کے فضل سے راستباز کو پالیا ہے تو ایک منٹ بھی اس سے دور رہنا نہیں چاہتا یہاں تک کہ ایک نے ہزار روپیہ دے کر بلوانا چاہا مگر میں نے گوارا نہ کیا پھر اس پر مجھے تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے دوسرے بھائی کیونکر قادیان سے باہر جانا چاہتے ہیں۔میں یہ باتیں صرف تحدیث بالنعمۃ کے طور پر کہتا ہو ں شاید کسی کو فائدہ ہو کہ میں نے بہت کتابیں جمع کیں لیکن جو کچھ مجھے ملا محض اس کے فضل سے ملا۔تم نہ تھے کوئی دعویٰ نہ تھا اس وقت میرے دل نے مان لیا تھا کہ یہ سچا ہے میرے لئے اس کی سچائی کی دلیل اور نشان میں آپ ہی تھا۔پھر میرا لڑکا عبدالحئی آیۃ اللہ ہے۔محمد احمد مرگیا تھا۔لدھیانہ کے ایک معترض نے اس پر اعتراض کیا میرے غافل قلب نے اس کی پروانہ کی اور حقیقت میں میری یہ حالت ہے کہ میں محض اولاد کا خواہشمند نہ تھا میں اسی مجلس میں ایک شخص کو بطور شہادت پیش کر سکتا ہوں اور وہ ایڈیٹر الحکم ہے کہ ایک طبیب نے جو اشتہاری ہے مجھے اس کی معرفت پیغام دیا کہ تم میرا علاج کرو تمہارے یہاں اولاد ہو