خطابات نور — Page 13
فروگذاشت کرنا ہی نہ تھا مگر اندرونی مخالفوں نے بھی عجیب عجیب طور پر اسلام کی مخالفت کی ہے۔اگر دل اور دماغ انسان کا ضائع نہ ہو گیا ہو تو وہ سمجھ سکتا ہے۔اہل دل جو لوگ کہلاتے ہیں یعنی صوفی اور گدی نشین۔ان کی حالت تو یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ قریب بہ اباحت پہنچ گئی ہے۔قرآن پر تدبر کرنا، قرآن کریم کو امام بنانا حرام کر دیا۔وظائف اور قواعد بھی اپنے ہی بنا لئے۔چند اشعار کا پڑھنا عبادت کا لب لباب قرار دے دیا اور وحدت وجود کے ایسے مسائل ایجاد کئے اور ایسی امثلہ یاد کیں کہ اس کا نتیجہ اباحت ہے۔اب بتلائو وہ مخالفان ملت کی کیا اصلاح کرتے ہیں۔اہل دماغ گروہ کو دیکھو یہ وہ گروہ ہے جو اپنے آپ کو علماء کا گروہ کہلاتا ہے میں نے خود اس گروہ میں عرصہ تک رہ کر دیکھا ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ یہ گروہ دین کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے۔جھوٹے اور بے معنی قصے ایجاد کر کے جن کا کہیں قرآن وحدیث میں ذکر تک نہیں مخالفان دین کو انگشت نمائی کا موقع دیتے ہیں اور اکثر وں کی ہلاکت کا موجب ہوتے ہیں۔میں ایک دفعہ ریل میں سفر کر رہا تھا۔اسی کمرے میں ایک بڈھا سا آدمی بھی بیٹھا تھا۔اس نے جب مولوی کا نام سنا تو اسے نفرت ہوئی اور اس نے اپنا سر کھڑکی سے باہر نکال لیا۔میں نے حسب معمول ایک انگریزی خواں کے سوالوں کا جب جواب دینا شروع کیا تو اس نے پھر سر اندر کر لیا اور اس نے بیان کیا کہ مجھے مولویوں کے نام سے نفرت کی وجہ یہ ہے کہ جب میں ایک بار لودھیانہ آیا تو کشمیری بہت تھے اور ایک مسجد میں فضائل دریائے نیل کے وعظ میں بیان ہورہے تھے بیان کیا گیا کہ دریائے نیل چاند کے پہاڑوں سے نکلتا ہے اس پر جب کسی نے اعتراض کیا کہ یا حضرت! ہندو کہتے ہیں کہ گنگا جی بھی شیوجی کی جٹوں سے نکلتی ہے ہم ان پر کیا انکار کر سکتے ہیں۔اس پر واعظ صاحب نے سائل کو پٹوایا۔اس کا اثر یہ ہوا کہ مجھے اسلام سے نفرت ہو گئی اور میں عیسائی ہو گیا اور کچھ عرصہ تک گجرات میں رہا۔برانڈرس صاحب ایک انگریز تھے انہوں نے ایک پمفلٹ دکھایا کہ دیکھو یورپین لوگ کیسے مستعد ہیں سات پشت سے دریائے نیل کے منبع کی تلاش میں لگے تھے۔اب معلوم ہو گیا کہ دریائے نیل جبل القمر سے نکلتا ہے۔میں یہ سن کر رو پڑا اور اس دن سے عہد کر لیا کہ کسی مولوی سے نہیں ملوں گا اور مسلمان ہو گیا۔(یہ ہنسنے کا مقام نہیں رونے کی جا ہے۔یہاں تک اسلام کے علماء کی حالت پہنچ گئی ہے کہ