خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 166 of 660

خطابات نور — Page 166

میرے اس سوال کا جواب کسی نے نہیں دیا اور حقیقت بھی یہی ہے کیا معا ذا للہ قرآن شریف موم کی ناک ہے کہ جدھر چاہی پھیر دی یا وہ اپنے اس دعویٰ میں معاذاللہ سچا نہیں جو اس نے اختلاف مٹانے کا کیا ہے ؟ پھر یہ ایمان کیوں رکھتے ہو۔میری سنو !قرآن شریف آیات محکمات ہے وہ لاریب اختلاف مٹانے کے لئے حَکَمْہے مگر اس پر مسلمانوں نے توجہ نہیں کی اور اس کو چھوڑ دیا وہ اپنی نزاعوں کو قرآن شریف کے سامنے عرض نہیں کرتے۔مجھے ایک بار لاہو ر کے شیعوں کے محلہ میں وعظ کرنے کا اتفاق ہوا۔میں نے کہا کہ شیعوں سنیّوں کے اختلا ف کا قرآن سے فیصلہ ہو سکتا تھا اگر یہ توجہ کرتے۔ایک شخص نے کہا کہ وہ قرآن سے ہی استدلال کرتے ہیں۔میں نے کہا کہ یہ قرآن موجود ہے آپ ہی بتا دیں کہ کہاں سے استدلال کیا ہے۔غرض قرآن کو ہر گز حَکَم اور فیصلہ کُن نہیں مانتے اس پر ایمان ہوتا تو بڑی صفائی سے یہ بات سمجھ میں آجاتی کہ سچی توجہ کے لیے ایک کامل الایمان مزکّیاور مطھّرکی ضرورت ہے جو اپنی قدسی قوت کے اثر سے دلوں کے زنگ کو دور کرے۔بدوں مزکّیکے یہ بات حاصل نہیں ہو سکتی اور یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ سمجھ میں نہ آسکے بلکہ وسیع نظارہ قدرت میں اس کے نظائر موجود ہیں۔دیکھو ایک درخت کی ٹہنی جب تک درخت کے ساتھ پیوند رکھتی ہے وہ سر سبز ہوتی ہے حالانکہ اس کو جو پانی کی غذائیت ملتی ہے وہ بہت ہی کم ہوتی ہے اب اگر اس کو دیکھ کر ایک نادان اس کو کاٹ کر پانی کے ایک گڑھے میں ڈال دے کہ لے تو اب جس قدر پانی چاہے جذب کر اور اپنے دل میں خوش ہو کہ یہ بہت جلد بار آور ہو جائے گی تو اس کی حماقت اور نادانی میں کیا شک رہ جائے گا جب وہ ڈالی بہت جلد خشک ہو کر سڑ گل جائے گی اور اس کو بتا دے گی کہ میں سر سبز نہیں رہ سکتی اس درخت سے الگ ہو کر۔اسی طرح یہ نظارہ قدرت عام اور وسیع ہے اس سے صاف سبق ملتا ہے کہ ایک مزکّیکی ضرورت ہے جس کے ساتھ پیوند لگا کر انسان اپنے تزکیہ کا حِصّہ لے سکتا ہے ورنہ مزکّیسے الگ رہ کر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ وہ اپنی اصلاح اور تزکیہ کر لے گا۔یہ غلط اور محض غلط ہے بلکہ