خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 165 of 660

خطابات نور — Page 165

ہمارے ریفارمر (خود ساختہ )اور مصلح قرآن شریف کو مسّ نہیں کرتے اور تفرقہ کے دور کرنے کے لئے قرآن شریف میں علاج نہیں ڈھونڈتے۔میں نے ان لیکچروں اور سپیچوں کو پڑھ کر درد دل کے ساتھ یہی کہا ہے۔(الفرقان:۳۱) غرض میں اس عظیم الشان اختلاف کو ابھی پیش کرتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ یہ کیونکر دور ہو سکتا ہے؟ دیکھو ایک چیز ہے جس کا نام ایمان ہے اور ایک کا نام عمل ان دونوں کا باہم مقابلہ کر و اور سوچ کر بتاؤ کہ کیا ان میں موافقت ہے ؟ کیا حال اور قال یکساں ہے ؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر کیوں صاف دلی کے ساتھ یہ اقرار نہیں کیا جاتا کہ ایک مزکّیکی ضرورت ہے جو انسان کو اس نفاق سے جو اس کے اندر ایمان اور عمل کی عدم موافقت سے پید ا ہو رہا ہے دور کرے اگر نرا علم کوئی چیز ہوتا معرفت صحیحہ کی ضرورت نہ ہوتی ؟ اگر اس قوت اور کشش کی حاجت نہ ہوتی جو انسان پر اپنا عمل کر کے اس کے دل کو صاف کرنے میں معاون اور مددگار ٹھہرتی ہے جو مزکّی کی تاثیر صحبت اور پاک انفاس کی برکت سے ملتی ہے جس کی طرف ۔(التوبۃ :۱۱۹)کہہ کر مولا کریم نے توجہ دلائی ہے تو میں پوچھتاہوں کہ پھر اسی پارسی لسان الغیب کو کیا حاجت اور ضرورت تھی جو وہ بول اٹھا کہ مشکلے دارم زدانشمند مجلس باز پرس۔اس ایمانی اور عملی اختلاف کے ماورا اور اختلاف ہے جس نے قوم کے شیرا زہ کو پراگندہ اور منتشر کر دیا ہے اوروہ روح قوم میں نہ رہی جو  (آل عمران :۱۰۴)میں رکھی گئی تھی یعنی مختلف فرقے شیعہ، سنّی ، خوارج ، مقلد ، غیر مقلد ، جبریہ، قدریہ وغیرہ کے بکھیڑوں اور قضیوں پر نگاہ کرو تو عظیم الشان تفرقہ نظر آئے گا میں نے اکثر لوگوں سے پوچھا ہے کہ یہ فرقہ بندیاں کیوں ہیں ؟ اکثروں نے کہا ہے کہ سب فرقے قرآن ہی سے استدلال کرتے ہیں۔میں نے نہایت تعجب اور افسوس کے ساتھ اس قسم کی دلیری اور جرات کو دیکھا ہے اور سنا ہے قرآن شریف تو اختلاف مٹانے کو آیا ہے اور یہی اس کا دعویٰ ہے جو بالکل سچا ہے پھر یہ اختلاف اس کے ذریعہ کیسے ہو سکتا ہے ؟