خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 162 of 660

خطابات نور — Page 162

رؤیا اور الہام اس بات پر شہادت دیتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی کا زمانہ چودھویں صدی سے آگے نہیں ہر صدی پر مجدد کے آنے کا وعدہ بجائے خود ظاہر کرتا ہے کہ ایک عظیم الشان مجدد اس وقت ہونا چاہئے اور چونکہ صلیبی فتنہ کثرت سے پھیلا ہوا ہے اس لئے اس صد ی کے مجدد کا نام بہر حال کاسر الصلیب ہی ہوگا خواہ وہ کوئی ہو اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوںمیں کاسر الصلیب جس کا نام رکھا گیا ہے وہ وہی ہے جس کو دوسرے الفاظ میں مسیح موعود کہا گیا ہے اور اسی طرح سے خدا تعالیٰ کے پاک کلام پرجب ہم نگاہ کرتے ہیں تو اور بھی صفائی کے ساتھ یہ با ت کھل جاتی ہے کہ اس نے وعدہ کیا کہ اسی اُمت میں سے خلفاء کا ایک سلسلہ اسی نہج اور اسلوب پر قائم ہوگا جیسے بنی اسرائیل میں ہوا اور پھر یہ بھی کھول کر بیان کیا گیا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وعدہ اور پیشگوئی کے موافق جو استثنا کے باب میں کی گئی تھی مثیل موسیٰ ہیں اور قرآن نے خود اس دعویٰ کو لیا   (المزّمل :۱۶) اب جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ٹھہرے اور خلفاء موسویہ کے طریق پر ایک سلسلہ خلفائے محمدیہ کا خدا تعالیٰ نے قائم کرنے کا وعدہ کیا جیسا کہ سورہ نور میں فرمایا   (النّور :۵۶)پھر کیا چودھویں صدی موسوی کے مقابل پر چودھویں صدی ہجری پر ایک خلیفہ کا آنا ضروری تھا یا نہیں ؟ اگر انصاف کو ہاتھ سے نہ دیا جاوے اور اس آیت وعدہ کے لفظ کَمَاپر پورا غور کر لیا جاوے تو صاف اقرار کرنا پڑے گا کہ موسوی خلفاء کے مقابل پر چودھویں صدی کا خلیفہ خاتم الخلفاء ہوگا اور وہ مسیح موعود ہوگا۔اب غور کرو کہ عقل اور نقل میں تناقض کہاں ہوا؟ عقل نے ضرورت بتائی نقل صحیح بھی بتاتی ہے کہ اس وقت ایک مامور کی ضرورت ہے اور وہ خاتم الخلفاء ہو گا اس کا نام مسیح موعود ہونا چاہئے۔پھر ایک مدّعی موجود ہے وہ بھی یہی کہتا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اس کے دعویٰ کو راستبازوں کے معیار پر پرکھ لو۔میں اب ایک اور آسان ترین بات پیش کرتا ہوں جو عقل اور نقل