خطابات نور — Page 161
آنے لگتے ہیں کوئی آسمانی نور اترتا ہے اور دنیا کی ہدایت اور روشنی کا موجب ٹھہرتاہے۔اسی طرح پر ہم دیکھتے ہیں کہ جب امساکِ باراں حد سے گذرتاہے جس کا نام عام لوگوں نے ہفتہ رکھا ہے کہ سات سال سے زیادہ نہیں گذرتا تو سمجھنے والا سمجھتا ہے کہ اب بارش ضرور ہوگی۔اس قسم کے نشانات خدا تعالیٰ کے ایک اٹل اور مستقل قانون کا صاف پتہ دیتے ہیں اگر آنکھ بالکل بند نہ ہو اگر دل بالکل سویا ہوا نہ ہو تو اس بات کا سمجھ لیناکہ روحانی نظام بھی اسی طرح واقع ہے کچھ مشکل نہیں مگر یہ آنکھ کی بصیرت اور دل کی بیداری بھی اللہ تعالیٰ ہی کے فضل پر موقوف ہے میں غور کرتے کرتے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مامور من اللہ اور راستباز کی شناخت کے لئے ہر قسم کے دلائل مل سکتے ہیں انفسی اور آفاقی دونوں قسم کے دلائل ہوتے ہیں یعنی اندرونی اور بیرونی دلائل۔اندرونی دلائل میں سے ایک عقل بھی ہے پھر اس کے ساتھ نقل کا پتہ لگا سکتے ہیں اور اسے سمجھ سکتے ہیں اگر اپنی عقل یا نقل کافی نہ ہو تو دوسرے عقیل اور فہیم لوگو ں سے سن کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔بارہا میرے دل میں یہ سوال پیداہوا ہے کہ عقل مقدم ہے یا نقل اور کیا ان دونوں میں کوئی تعارض اور تناقض تو نہیں ؟ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سماعی چیزوں پر بھی عقل فیصلہ دیتی ہے جیسے فرمایا گیا ہے۔ (الملک:۱۱) اور پھر عقل صریح اور نقل صحیح میں ہر گز کوئی تعارض نہیں ہوتا دونوں کا ایک ہی فیصلہ ہے اور عقل مقدم ہے کیونکہ انسان مکلّف نہیں ہو سکتا جب تک سوچنے اور سمجھنے نہ لگے۔پس اب ہم اس مدّعی کے دعویٰ کے امتیاز کے لئے عقلی اور نقلی دلائل سے اگر فیصلہ چاہیں تو یقیناً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ واقعی یہ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔عقل سے پہلے ہمیں یہ معلوم کرنا ہو گا کہ کیا اس وقت کسی کے آنے کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ تو جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں خدا تعالیٰ کا مستقل اور اٹل قانون ہمیں بتاتاہے کہ اس کی طرف سے ایسے وقت پر مامور آتے ہیں اور آنے چاہئیں ؟ اور پھر جب ہم نقل سے اس کا موازنہ کرتے ہیں تو عقل صحیح ہم کو بتاتی ہے کہ یہ وقت خدا کے ایک مامور کے آنے کا ہے تمام کشوف اور