خطابات نور — Page 153
تاثیر قوی اور افاضہء ِ برکات میں سب نبیوں سے بڑھ کر اور افضل ہیں اور یہی ایک بات ہے جو قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت دوسری تمام کتابوں اور نبیوں کے مقابلہ میں بدیہی الثبوت ہے۔عیسائیوں نے حضرت مسیح کی شان میں غلو تو اس قدر کیا کہ ( باوجود یکہ وہ اپنی عاجزی اور بیکسی کا ہمیشہ اعتراف کرتے رہے اور کبھی خدائی کا دعویٰ نہ کیا) ان کو خدا بنا دیا لیکن اگر ان سے پوچھا جاوے کہ اس خدا نے دنیا میں آکر کیا کیا ؟ تو میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کوئی قابلِ اطمینان جواب اس قوم کے پاس نہیں ہے۔یہ ہم مانتے ہیں کہ جب مسیح آئے اس وقت یہودیوں کی ایمانی اور اخلاقی حالت بہت ہی گری ہوئی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے اخلاق اور عادات اور ایمان میں کیا تبدیلی کی؟جبکہ وہ اپنے حواریوں کا بھی کامل طور پر تزکیہ نہ کر سکے تو اوروں کو تو کیا فیض پہنچتا۔یہی موجودہ انجیل جو اس قوم کے ہاتھ میں ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ چند لالچی اور ضعیف الایمان آدمیوں کے سوا وہ کوئی جماعت جو اپنے تزکیہء ِ نفس میں نمونہ ٹھہر سکے دنیا کے سامنے پیش نہ کرسکے جو ہمیشہ اپنے مرشد وامام کے ساتھ بے وفائی کرتے رہے۔حتی کہ بعض ان میں سے اس کی جان کے دشمن ثابت ہوئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن شریف نے دعوٰی کیا ہےاور اس دعویٰ کا ثبوت بھی دیا جبکہ ان میں حیرت انگیز تبدیلی پیدا کردی وہ قوم جو بُت پرستی میں غرق تھی وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکہنے والی ہی ثابت نہیں ہوئی بلکہ اس توحید کو جوش اور صدق سے انہوں نے قبول کیا کہ تلواروں کے سایہ میں بھی اس اقرار کو نہیں چھوڑا۔ملک ومال احباب رشتہ داروں کو چھوڑنا منظور کیا مگر اس چھوڑی ہوئی بُت پرستی کو پھر منظور نہ کیااپنے سیّد ومولیٰ رسول کے ساتھ وہ وفا داری اور ثباتِ قدم دکھایا جس کی نظیر دنیا کی کوئی قوم پیش نہیں کر سکتی یہاں تک کہ غیر قوموں کو بھی اس کا اعتراف کرنا پڑا۔یہ واقعات ہیں جن کو کوئی جھٹلانہیں سکتا اس لیے مجھے ضرورت نہیں کہ میں ان پر کوئی لمبی بحث کروں میرا مطلب اور مدّعا صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ دوسرا کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ ان کا تزکیہ کیا کہ ان کی حالت یہاں تک پہنچی(بنی اسرائیل:۱۱۰) وہ روتے