خطابات نور — Page 149
ان سے بڑھ کر اپنے رسولوں کو عزت دیتا ہے اور سچی عزت اور بڑائی حقیقی اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہے۔غرض ہر قول وفعل میں مومن کو لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عزت کا خیال کرے کیونکہ وہ العزیز ہے۔ظالم طبع انسان کی عادت ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک فعل سر زد ہوتا ہے تو وہ اس میں اپنی طرف سے نکتہ چینی کرنے لگتا ہے۔آدم کی بعثت پر نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ کہنے والے اپنی کمی علم اور ناواقفی کی وجہ سے (البقرۃ:۳۱) پکار اٹھے مگر چونکہ یہ گروہ صاف طینت تھا آخر اس نے (البقرۃ:۳۳) کہہ کر اللہ تعالیٰ کے اس فعل خلافت آدم کو حکمت سے بھرا ہوا تسلیم کر لیا۔مگر وہ لوگ جو خدا سے دُور ہوتے ہیں وہ عجائبات قدرت سے نا آشنا محض اور اسماء ِ الٰہی کے علم سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں وہ اپنے خیال اور تجویز کے موافق کچھ چاہتے ہیں جو نہیں ہوتا جیسا ہمارے سردار سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر کہہ اٹھے (الزخرف:۳۲) یہ لوگ اللہ تعالی کو الحکیم نہیں مانتے ورنہ وہ اس قسم کے اعتراض نہ کرتے اور یقین کر لیتے کہ (الأَنعام:۱۲۵) اسی طرح شیعہ نے خلافت خلفاء پر بعینہٖ وہی اعتراض کیے جو کفارنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر کیئے۔حکیم کے معنے ہی ہیں اپنے محل پر ایک چیز کو رکھنے والا اور مضبوط و محکم رکھنے والا۔پھر اگر الحکیم صفت پر ایمان ہو تو بعثت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر انکار کر کے کیوں اپنے ایمان کو ضائع کرتے۔غرض اللہ تعالیٰ یہاں بتاتا ہے کہ اس کے قول اور فعل میں سرا سر حکمت ہوتی ہے اس لئے اس کے انکار سے بچنے کے لئے یہی اصول ہے کہ اللہ تعالیٰ کو الحکیم مانو۔پس جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اس اللہ کی جو الملک ، القدوس ، العزیز ، الحکیم ہے زمین و آسمان کے تمام ذرات اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی ان صفات پر گواہ ہیں پس زمینی علوم یا آسمانی علوم جس قدر ترقی کریں گے خدا تعالیٰ کی ہستی اور ان صفات کی زیادہ وضاحت زیادہ صراحت ہوگی۔میں اپنے ایمان سے کہتا ہوں کہ میں ہر گز ہر گز تسلیم نہیں کرتا کہ