خطابات نور — Page 133
کبھی وہ خاک ہو کر دشمنوں کے سر پہ پڑتی ہے کبھی ہو کر وہ پانی ان پہ اک طوفان لاتی ہے غرض رکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے بھلا خالق کے آگے َخلق کی کچھ پیش جاتی ہے (درثمین صفحہ۳) پس میں تمہیں کہتا ہوں کہ اگر تم اللہ کی نصرت چاہتے ہو۔اسے سِپر بنانا چاہتے ہو تو جس نے سپر بنانے کا نمونہ اپنی عملی زندگی سے دکھایا ہے اس کے نیچے آئو اور اس کے رنگ میں رنگین ہوجائو۔پھر فرمایا (اٰل عمران :۱۰۴)سب کے سب مل کر حبل اللہ کو پکڑ لو۔مجھے نہایت رنج اور قلق سے کہنا پڑتا ہے کہ اس حکم پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔حبل اللہ یعنی قرآن کریم کو مضبوط پکڑنا چاہئے تھا مگر اس کی پروا نہیں کی جاتی۔تمہاری کوئی حرکت اور سکون کوئی رسم اور پابندی اس رسن سے الگ نہ ہو۔اللہ تعالی کو سپر بنانے کے واسطے اس کی رضامندی کی راہوں کو معلوم کرنا ازبس ضروری تھا اور وہ بیان ہوئی ہیں قرآن کریم میں اس لئے اس کو مضبوط پکڑنے کا ارشاد ہوا مگر بدقسمتی سے ہزاروں بدقسمت تو ایسے ہیں جو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ایک بار پڑھ لیا ہے اور بہت سے بدنصیب ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن شریف کا عطر فلاں مثنوی یا کتاب میں ہے پڑھ لیا کرتے ہیں اور اکثر ایسے بھی ہیں جو صرف الفاظ تک محدود ہیں ان کے نزدیک قرآن کریم کے مطالب عالیہ پر اطلاع ضروری شیء نہیں چہ جائیکہ اس پر عمل۔میں ایک شخص کو قرآن پڑھاتا تھا اس نے پڑھنا چھوڑ دیا۔میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا؟ تو یہی جواب دیا کہ عمل تو ہوتا نہیں ہے پڑھ کر ملزم کیوں ہوں۔وہ قرآن جس کے لئے دنیا میں ہزاروں آدمیوں کے خون بہائے گئے جس کی تعلیم کی اشاعت اور تبلیغ میں ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم کو خطرناک مصائب اور مشکلات کا مقابلہ کرنا پڑا۔وطن، احباب اور عزیزوں سے الگ ہونا پڑا۔اس قرآن کی طرف اب توجہ نہیں رہی۔ہاں پھر وہ قرآن جس نے دنیا میں ایک متروک اور الگ پڑی ہوئی قوم کو دنیا کا فاتح اور حکمران بنا دیا اب اس کو غیرضروری شیء سمجھا جاتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام دکھوں اور مصیبتوں کو جو قرآن کے پہنچانے میں نبی کریمؐ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کو