خطابات نور — Page 131
ہے جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ کوئی عجیب سپر ان کے پاس ہے۔جس کی اوٹ میں یہ مامون اور مصئون ہیں۔پس اب یہ بخوبی سمجھ میں آسکتا ہے کہ کیا ہے؟ (النجم :۴) یعنی وہ اللہ ہی کے بلائے سے بولتا ہے یہی وجہ ہوتی ہے کہ ان کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے۔اب میں تمہارے سامنے پھر وہی پاک نمونہ پیش کرتا ہوں۔جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اور جو اس وقت تم میں موجود بیٹھا ہے۔یعنی حضرت امام علیہ السلام کا پاک وجود۔دیکھو ایک مولوی اور ملا اپنی اپنی جگہ شور مچاتا ہے کہ میں نے جیت لیا ہے اور کہتے ہیں۔یہ کون ہے مرزا جو کرے چوں مرے آگے مگر میں ایمان سے کہتا ہوں اور دنیا دیکھتی ہے۔خود ان کے دل ان کو شرمندہ کرتے ہیں کہ یہ نری شیخیاں اور دعویٰ ہی دعویٰ ہیں۔وہ ایک بال کے برابر بھی اس کو ضرر نہیں پہنچاسکے۔بلکہ ان کی مخالفت اس کی کامیابی کو زور کے ساتھ ثابت کررہی ہے۔پس میں نے بتایا ہے کہ اول اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔پھر تعلیم کی طرف نگاہ کرے اور پھر مامور کے اپنے وجود کو دیکھے کہ اس میں ایک زبردست ثبوت اس کی سچائی کا ہوتا ہے کہ مخالفوں کی مخالفت اس کو ضرر نہیں پہنچاسکتی۔میری رائے میں اگر کوئی شخص الہام کا دعویٰ کرے اور اس کی مخالفت زور و شور سے نہ ہو وہ بھی من جانب اللہ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی سپر کا رنگ موجود نہیں ہوتا۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہر دکھ کا موجب ہوتی ہے اور فرمانبرداری ہر سکھ کا موجب ہوتی ہے۔پس اگر ہم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی راہ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ضرور سپر ہوگا۔پھر میں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سپر ہوجانے کا ثبوت اس نصرت سے ہوتا ہے جس کا وعدہ اس آیت میں ہے۔ تمام مرسلوں کی مخالفت ہوتی ہے اور پھر اس سے اللہ تعالیٰ کی نصرت کا پتا لگتا ہے۔اگر مشکلات اور مصائب نہ آئیں اور مخالفت نہ ہوتو پھر نصرت الٰہی کا ثبوت ہو تو کیونکر ہو۔پس یہ ضروری بات ہے کہ ماموروں اور خدا کے بھیجے ہوئے پاک بندوں کی مخالفت کی جاتی ہے اور بڑے بڑے مشکلات آتے ہیں مگر اس کا ہر میدان اور مقابلہ میں کامیاب ہونا بتادیتا ہے کہ اس نے اللہ کو سپر بنایا ہوا ہے اور پھر میں ابھی تم کو دکھا چکا ہوں کہ حضرت اقدس امام الزمان علیہ الصلوٰۃ والسلام