خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 130 of 660

خطابات نور — Page 130

کثرت اور اس کے دم میں تیزی پیدا ہوتی جاتی ہے اور کوئی مخالفت اور عداوت اس پر اثر نہیں کرتی تو یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ خدا کو سپر بنانے کا ڈھب اس کو ضرور یاد ہے۔میں نے صحابہ کرام کی حالت پر غور کیا ہے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جس قدر فتوحات کا زور ہے۔وہ کسی دوسرے زمانہ میں نظر نہیں آتا۔انتظام مملکت کے متعلق کیسی کیسی دور اندیشیاں کی جاتی ہیں۔عمرو ابن عاص مصر کے خزائن کے متعلق لکھتا ہے تو اس سویز کینال (نہرسویز) کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس کے اخراجات کا تخمینہ بھی بتاتا ہے۔ایک فرانسیسی مورخ نے نہایت تعجب کے ساتھ لکھا ہے کہ اب بھی وہی کینال پر قریباً خرچ آیا ہے مگر اس وقت حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ سردست مصلحت نہیں یہ اور وقت کے لئے ہے اگر راستہ کھول دیا جاوے تو یورپ کی اقوام مدینہ کے قریب آسکتی ہیں۔کتنا بڑادوراندیش اور مآل بیں انسان ہے مگر نماز میں خنجر چلا تو اپنے آپ کو نہ بچا سکا۔  (المائدۃ :۶۸) کی آواز ان کو تو نہ آئی تھی۔جس کو یہ صدا آچکی تھی وہ تو تنہائی اور بے کسی کے زمانہ میں مخالفت کی تاریکی میں بھی صحیح و سلامت نکلتا ہے۔لیکن حضرت عمرؓ پوری شوکت اور جلال کے دنوں میں عین نماز میں شہید ہوئے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مامور من اللہ کا وجود علی وجہ الاتم اللہ تعالیٰ کو سپر بنانے کا کامل نمونہ ہوتا ہے۔کوئی مخالفت اور عداوت اور سازش ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔سنو! یہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی قوم کے ممبر ذہات کہلاتے تھے۔پھر حضرت عثمان کو قتل کرہی دیا۔پھر جناب مولیٰ مرتضیٰ کی بہادری کے قصے تو سب نے سنے ہیں مگر ابن ملجم شقی نے سب کچھ بھلا دیا۔میری غرض اس بیان سے یہی ہے کہ پورا نمونہ کا خود مامور من اللہ ہوتا ہے۔لکھا ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے پڑے تھے اور تنہا تھے۔ایک شخص نے آکر آپ کی تلوار اٹھالی اور چاہتا تھا کہ آپ پر وار کرے۔آپ کی آنکھ کھل گئی۔اس نے کہا کہ اب آپ کو کون بچاسکتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ۔آپ کے اس ارشاد میں کچھ ایسی ہیبت اور ایسا رعب تھا کہ اس کے بدن پر لرزہ پڑگیا اور تلوار گر پڑی۔ان لوگوں کا وجود خدا نما آئینہ ہوتا