خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 660

خطابات نور — Page 128

محمد کے سوا تو کوئی رسول ہو ہی نہیں سکتاجو محمد ہو وہی رسول ہوگا۔محمد کے معنے ہیں سراہا گیا اگر کوئی رسول بن سکتا ہے تو محمد لفظ کے معنے سے اس کو حصہ لینا ضروری ہے۔ابراہیم، یوسف، موسیٰ میں یہ شان کسی حد تک جلوہ گر نہ ہوتی تو وہ رسول کیونکر بن سکتے تھے۔ہاں جو شان محمد کی ہے اس کا کہنا تو آسان نہیں ہے۔میرا ایمان تو یہی ہے کہ وہ محمد ہی کی شان لے کر رسول ہوئے اور جس کا نام دوست دشمن نے محمد رکھا ہے وہی رسول ہوسکتا ہے اور پھر محمد رسول ہوسکتا ہے۔الغرض اللہ تعالیٰ کو سِپر بنانے کی یہ ایک راہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود بتادے کہ تم اللہ تعالیٰ کو اس طرح سپر بناسکتے ہو۔چنانچہ اس آیت شریفہ کے آخر ارشاد فرمایا ہے۔تم ایسی زندگی بسر کرو کہ تم پر موت آوے تو تم اس وقت اللہ کریم کے فرمانبردارہو جیسے فرمایا (اٰل عمران :۱۰۳) اس تعلیم کو دیکھو اس میں مسلمانوں کو کس قدر مستعد اور تیار رہنے کی تاکید ہے۔برادران! موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔اس لئے ہر وقت مسلمان بنے رہو تاکہ جب موت آوے تم کو کوئی حسرت اور افسوس نہ ہو۔گناہوں سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی ہدایت اس آیت میں کس خوبی کے ساتھ بیان کی ہے۔پس غفلت چھوڑ دو کہ یہ مسلمان کی شان نہیں ہے۔چلتے، پھرتے، اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے غرض ہرحالت میں مسلمان بنے رہو۔پس جو ایسی تعلیم لے کر آتا ہے وہی منجانب اللہ ہے لاکن اس کی یہ پہچان بھی ہے کہ جب وہ اس جہان میں آتا ہے اس وقت دنیا میںاس کا کوئی ہمدرد، ہم خیال نہیں ہوتا۔بالکل بے کسی اور ناتوانی کی حالت ہوتی ہے۔ہر طرف سے اس پر حملے کئے جاتے ہیں اور دنیادار ساری قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ چاہتے ہیں کہ اس کو نیست و نابود کردیں مگر  (المؤمن :۵۲) کیا معنے ہم دنیا ہی کی زندگی میں اپنے رسولوں اور مومنوں کی مدد کرتے ہیں اور بتلا دیتے ہیں کہ اس کی متابعت اور اطاعت ہی اللہ تعالیٰ کو سپر بنانے کی صحیح اور یقینی راہ ہے۔دنیادار اندر اور باہر سے اس کی مخالفت پر اٹھتے ہیں اور متحد اور منفرد صورتوں میں چاہتے ہیں کہ اس کو ہلاک کریں۔ہر روز ہر آن میدان میں ہر پہلو سے ناکامیابی دیکھنا چاہتے ہیں مگر وہ تدبیر اور منصوبہ جو اس کی بدی میں سوچتے ہیں ان پر ہی الٹ کر پڑتا ہے اور وہ ان کی تمام زدوں سے صاف بچ کر نکل جاتا ہے اور اس طرح پر اس کا وجود اس امر کی دلیل ہوجاتا ہے کہ اس کی ِسپر اللہ تعالیٰ ہے۔