خطابات نور — Page 127
گواہی دی تھی۔ایک گائوں میں میں نے ایک قاتل کو دیکھا اور معلوم ہوا کہ اس کے بدلے اور ناکردہ گناہ دائم الحبسہو گئے ہیں۔وارثان مقتول سے جب پوچھا گیا کہ یہ کیا بات ہے انہوں نے جواب دیا کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ قاتل ہے مگر ہم اس کو پکڑوا کر کیا کرتے یہ تو غریب آدمی ہے ہم نے تو ان کو ہی پکڑوانا تھا جن سے ہم کو خاص رنج تھا اور عداوت تھی۔دیکھو وہ وارثان مقتول جانتے تھے کہ اصل قاتل کون ہے مگر انہوں نے ایک بری الذمہ اور ناکردہ گناہ ہی کو پھنسانے کی سعی کی کیونکہ انہوں نے دنیا کو دین پر مقدم کیا ہوا تھا۔کچہریوں اور عدالتوں میں رہنے والے اگر دنیا کو مقدم نہ کریں تو وہ ظہر کی نماز ترک کیوں کر دیں۔اسی طرح اور صدہا امور اور معاملات میں دیکھو جہاں انسانی منصوبہ اور غرض کو دخل ہے وہاں جب مقدم ہو گی تو دنیا ہی مقدم ہو گی۔اس سے صاف طور پر معلوم ہو سکتا ہے کہ انسانی ایجاد اور انسانی قرار داد کا نتیجہ تو دنیا اور اس کے لوازمات ہیں لیکن وہ جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے وہ جب مقدّم کرے گا یا کسی سے کراوے گا وہ دین ہی کو مقدّم کرے گا۔پس یہ ایک دوسرا ذریعہ ہے جو صادق کی شناخت کا ہے کہ آیا وہ دین کو مقدم کرتا ہے یا دنیا کو۔ہمارے بھائیوں میں سے جنہوں نے دین کو دنیا پر مقدم کر کے تجربہ کیا ہے انہوں نے ضرور دیکھ لیا ہو گا کہ اللہ تعالی کی رضا کا یہ ذریعہ ضرور سچا ہے اور جس کے ذریعہ یہ راہ معلوم ہوئی ہے وہ بیشک خدا ہی کے بلانے سے بولا ہے اور یہ بھی معلوم ہو گیا ہو گا کہ اللہ تعالی کو سپر بنانا اور اس طرح پر سپر بناناجو سپر بنانے کا حق ہی یہی ہے۔پھر اسی وعدہ میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗبھی ہے۔دنیا میں جھوٹے قصے، جھوٹے منصوبے، خیالی تعلیمیں اور فرضی ہدایتیں شائع کرنے والے بھی ہوتے ہیں اور ان کے بدنتائج صاف بتلا دیتے ہیں کہ ان سب کی بنا جھوٹ اور زُور پر ہے مگر اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو ماننے والے اور اس پر پورا عمل کرنے والے ؎۲ بتلا سکتے ہیں کہ یہ انسانی تعلیم نہیں ہوسکتی یہ آسمانی تعلیم ہے میں جب اذان میں کسی سے محمد رسول اللہ سنتا ہوں!!! مجھے کس قدر خوشی ہوتی ہے کیونکہ میرے دل میں سرور کے ساتھ یہ بات داخل ہوتی ہے کہ