خطابات مریم (جلد دوم) — Page 947
خطابات مریم 947 زریں نصائح اختتامی خطاب ساتویں آل پاکستان لجنہ اتھلیٹکس وٹورنامنٹ منعقدہ 1988ء تشہد اور تعوذ و تسمیہ کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے ساتھ لجنہ کا ساتواں سالانہ ٹورنامنٹ اختتام کو پہنچ رہا ہے۔بیشتر اس کے کہ تقسیم انعامات کی تقریب عمل میں لائی جائے میں تمام بچیوں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اللہ تعالیٰ ہمیں بہتر ٹورنامنٹ منعقد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین آپ نے فرمایا کہ ٹورنا منٹ کا مقصد صرف انعام حاصل کرنا ہی نہیں بلکہ لجنہ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ بجنات اپنی بچیوں کی تربیت کا خیال رکھیں۔اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے۔لِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُو الخَيرَاتُ۔کہ ہر شخص کا ایک مطمع نظر ہوتا ہے اور وہ اس کی طرف کوشش کرنے والا ہوتا ہے۔(اے مسلمانو) تمہارا مطمع نظر یہ ہو کہ تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔ہمیں دنیا کی قوموں میں اپنے آپ کو صف اول میں لانا ہے اس لیے یہ مواقع بہم پہنچائے جاتے ہیں۔مجموعی طور پر یہ انتظام اچھا ہے مگر کہیں کہیں رکاوٹیں بھی آجاتی ہیں بعض دفعہ بدمزگیاں ہو جاتی ہیں بعض دفعہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہمارے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے حالانکہ جنہیں مقرر کیا جاتا ہے انہیں اصول معلوم ہوتے ہیں۔آپ نے وقت کی پابندی کی طرف خصوصی توجہ دلائی اور فرمایا کہ اگر ترقی کرنی ہے تو وقت کی پابند ہوں میں خود وقت پر آنے کی پابند ہوں مگر یہاں آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ آپ کے دل میں حسد پیدا نہ ہو کہ فلاں جیتا میں ہاری۔ہار جیت تو کھیل