خطابات مریم (جلد دوم) — Page 929
خطابات مریم 929 زریں نصائح 2۔حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے فرمایا وہ خدا تعالیٰ کی حمد وثناء کرتی ہیں کہ انہیں اس دورہ کی توفیق ملی آپ نے جماعت احمدیہ انڈونیشیاء اور نمبرات لجنہ کا استقبال کے لیے شکریہ ادا کیا بعد ازاں آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ احمدیت کو دنیا کے کناروں تک پھیلائے گا۔انڈونیشیا کا دورہ اس پیشگوئی کی سچائی ثابت کرتا ہے۔آپ نے امید ظاہر فرمائی کہ ممبرات لجنہ آپ کی نصائح کو پوری توجہ سے سنیں گی اور ہر ممبر اپنے اندر انقلاب پیدا کر کے جماعت کی بہتر رنگ میں خدمت کر سکے گی نیز ان نصائح کو ان بہنوں تک پہنچائیں گی جو حاضر نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا جماعت احمدیہ کی ہر جگہ مخالفت ہورہی ہے تا ہم اگر لوگ ہمارے خلاف ہیں تو ہمیں ان کے خلاف نہیں ہونا چاہئے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمام دنیا میں نیکی کو پھیلانا ہے بہترین امت ہونے کے لحاظ سے ہم نے لوگوں کو اچھے کام کرنے کی تلقین کرنی ہے اور بُرے کاموں سے روکنا ہے ہمیں اپنے نفس کا محاسبہ کرنا ہے مثالی بننے کے لیے ہمیں قرآن کریم کا ترجمہ کے ساتھ بغور مطالعہ کرنا چاہئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر چلنا چاہئے آپ سب کو بحیثیت ممبرات اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے۔جب تک آپ میں یہ احساس ذمہ داری نہ ہو جماعت کے لیے آپ کی زندگی بے معنی ہے آپ سب کا فرض ہے کہ قرآن کریم کا مطالعہ خود بھی کریں اور اپنی اولادوں کو بھی اس کی عادت ڈالیں۔قرآن کریم کے احکامات پر عمل کریں آپ کو قبول احمدیت کے انعام کو دوسروں تک پہنچانا ہے اپنی اولادوں میں جماعتی ذمہ داریوں کو انجام دینے کا جذبہ پیدا کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں کی عورتوں نے قربانیاں دی ہیں لیکن ابھی کچھ کمزوریاں باقی ہیں۔قرآن کریم کی سورۃ نور میں بیان فرمودہ احکامات پر توجہ دیں جس میں پردہ کا حکم دیا گیا ہے قرآن کی تمام ہدایات کی حتی الامکان پا بندی کریں اپنے آپ اور اپنی نسلوں میں نیکی پیدا کرنے کی کوشش کریں ہر کام میں ہمیں دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے اصول کی پابندی کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہمارا نصب العین ہے اگر کسی کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت اپنے بچوں اور والدین کی محبت سے زیادہ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے