خطابات مریم (جلد دوم) — Page 920
خطابات مریم 920 زریں نصائح دورہ گجرات 2 مئی 1985 ء کو آپ نے ضلع گجرات کی ممبرات سے اپنے دورہ کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم سے جن قربانی کا مظاہرہ ہونا چاہئے اس سے ابھی ہم محروم ہیں آرڈینینس نے ہمیں بعض معاملات میں مجبور کر کے رکھ دیا ہے ان حالات کی وجہ سے لجنہ مرکزیہ نے فیصلہ کیا کہ ضلعی سطح پر میٹنگز منعقد کر کے خواتین کو بیدار کیا جائے۔آپ نے مجالس کی عہدیداران کو نصائح کرتے ہوئے فرمایا ہمیں پہلی وحی میں پڑھنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے مجھے یہ سن کر تکلیف ہوئی ہے کہ بعض جگہوں پر کسی ایک کو بھی قرآن کریم ناظرہ نہیں آتا آپ کوشش کریں کہ 30 سال تک کی عمر کی ہر ناخواندہ عورت کو پڑھانے کا انتظام کریں۔ہر احمدی عورت کو قرآن کریم ناظرہ اور نماز آنی چاہیئے نماز میں با قاعدگی اختیار کریں جہاں کوتا ہی ہو اس کی طرف صدر ضلع توجہ کریں اپنے عمل صحیح کریں کیونکہ ایمان کو جب تک عمل کا پانی نہ ملے ایمان نہیں بڑھ سکتا۔آپ کی کوئی بیٹی بیٹا مرد عورت جاہل نہیں ہونا چاہئے۔علم کے بغیر نہ ہم ترقی کر سکتی ہیں اور نہ ہی صحیح تربیت کر سکتی ہیں۔آپ نے فرمایا ہماری تعلیم ہمارے عمل سے ظاہر ہونی چاہئے جن اخلاق پر ہم زور دے رہی ہیں ہمیں سوچنا چاہئے کہ کیا ہم خود بھی اس پر عمل کر رہی ہیں آپ کی ذمہ داری ہے کہ خواتین میں حصول علم کا شوق پیدا کریں۔حضرت سیدہ نے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ تم اپنے آپ کو مسلمان نہ کہو ہم اپنے منہ سے کچھ کہیں یا نہ کہیں ہمارے اعمال سے ہمارا صحیح مسلمان ہونا ظاہر ہونا چاہئے۔غیر لوگ بھی ہمارا عمل دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ یہ واقعی مسلمان ہیں۔اپنے بچوں اور بچیوں کو نیکی کی طرف مائل کریں اگر ہماری یہ نسل خدانخواستہ کمزور رہ گئی تو