خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 799 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 799

خطابات مریم 799 اور اگر چہ یہ جماعت به نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی اور فِئَةٌ قَلِيلة ہے اور شاید اس وقت تک چار ہزار یا پانچ ہزار سے زیادہ نہ ہوگی تاہم یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔خدا اس کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا وہ راضی نہیں ہوگا جب تک اس کو کمال تک نہ پہنچا دے اور وہ اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کے گرد احاطہ بنائے گا اور تعجب انگیز ترقیات دے گا کیا تم نے کچھ کم زور لگایا پس اگر یہ انسان کا کام ہوتا تو کبھی کا یہ درخت کاٹا جاتا اور اس کا نام ونشان باقی نہ رہتا۔پیغامات (روحانی خزائن جلد 11 - انجام آتھم صفحہ 64) ہمیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہے کیونکہ یہ پودا اس کا لگایا ہوا تھا انسان کا نہیں جس طرح سو سال میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو بارش کی طرح برستے دیکھا اسی طرح ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ جماعت کے مستقبل کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ ضرور پوری ہوں گی۔نئی صدی ہم سے عظیم ذمہ داریوں کا مطالبہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو راضی کریں۔اپنے اعمال سے، قربانیوں سے ، اعلیٰ اخلاق سے ، دلی اخلاص سے، تقویٰ سے اور دعاؤں سے اور اپنے اعلیٰ نمونہ سے اپنی نئی نسل کی تربیت کریں تا وہ اس صدی میں پڑنے والی ذمہ داریوں کو احسن طور پر ادا کر سکیں۔حضرت بانی سلسلہ ازالہ اوہام میں اسی مقصد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں :۔ہم کیونکر خدا تعالیٰ کو راضی کریں اور کیونکر وہ ہمارے ساتھ ہو اس کا اس نے مجھے بار بار یہی جواب دیا ہے کہ تقویٰ سے۔سواے میرے پیارے بھائیو! کوشش کروتا متقی بن جاؤ۔بغیر عمل کے سب باتیں بیچ ہیں اور بغیر اخلاص کے کوئی عمل مقبول نہیں سو تقویٰ یہی ہے کہ ان تمام نقصانوں سے بیچ کر خدا تعالیٰ کی طرف قدم اُٹھاؤ اور پر ہیز گاری کی باریک راہوں کی رعایت رکھو۔(روحانی خزائن جلد 3 - ازالہ اوہام صفحہ 547) وہ را ہیں کیا ہیں حضرت اقدس خود ازالہ اوہام میں راہنمائی فرماتے ہیں :۔(1) سب سے اوّل اپنے دلوں میں انکسار اور صفائی اور اخلاص پیدا کر واور سچ سچ