خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 777 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 777

خطابات مریم 777 پیغامات تھے۔آپ نے یہ بھی دعوی فرمایا کہ ہر مذہب میں آخری زمانہ میں ایک موعود کے آنے کی خبر دی گئی تھی اور وہ موعود آپ ہی ہیں۔دنیا کے کانوں میں جب یہ آواز پڑنی شروع ہوئی تو مخالفت کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جو غلط عقائد اُن کے دلوں میں بیٹھ گئے تھے اُن کو چھوڑنے کے لئے وہ تیار نہ تھے حالانکہ مہدی کی آمد کا اُن کو انتظار تھا۔مگر آپ کو ماننے کو تیار نہیں تھے ہر قسم کا الزام آپ پر لگایا گیا یہاں تک کہ آپ کی مخالفت کرنے میں اُنہوں نے عیسائیوں کے ہاتھ مضبوط کئے۔ہندوؤں کا ساتھ دیا اور یہ نہ سوچا کہ اس سے اُن کے اپنے مذہب پر ضرب پڑے گی اور کمزوری کا باعث ہوگا۔کیا مسلمان ، کیا عیسائی ، کیا ہندو ، کیا آریہ، کیا سکھ ، ہر ایک آپ کا مخالف تھا۔پہلے تو یہ خیال تھا کہ یہ چند روز کی بات ہے آہستہ آہستہ یہ آواز مدہم پڑ جائے گی لیکن وہ یہ نہ جانتے تھے کہ یہ انسان کی سکیم نہیں یہ الہی سکیم تھی اور اللہ تعالیٰ کا اپنے نبیوں کے متعلق یہ فیصلہ ہے۔كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی یہ میری تقدیر ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آ کر رہتے ہیں۔خواہ مخالفتوں کی آندھیاں چلیں ، خواہ شیطان کے چیلے اُن کے راستوں میں کتنی ہی رُکاوٹیں ڈالیں۔خواہ اُن کی جان پر حملے کریں مگر اللہ کی نصرت اُن کے دائیں بھی ہوتی ہے بائیں بھی ہوتی ہے۔آگے بھی ہوتی ہے اور پیچھے بھی ہوتی ہے۔چنانچہ جب دنیا آپ کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی اللہ تعالیٰ آپ سے بڑے پیار سے مخاطب ہورہا تھا کہ آپ لمبی عمر پائیں گے۔1865ء میں الہام ہوا۔آپ فرماتے ہیں چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن میری موت کی تمنا کریں گے تا یہ نتیجہ نکا لیں کہ جھوٹا تھا تبھی مر گیا۔اس لئے پہلے ہی سے اُس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا:۔ثَمَا نِينَ حَوْلًا أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ اَوْ نَزِيْدُ عَلَيْهِ سِنِيْنًا وَ تَرَى نَسُلًا بَعِيدًا۔( تذکره صفحه 5) یعنی تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا دو چار سال کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ تو ایک دُور کی نسل کو دیکھ لے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے چند سال بعد فرمایا:۔