خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 648 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 648

خطابات مریم 648 پیغامات پیغام برائے سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ قادیان۔1980ء میری عزیز بہنو ! السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه آپ کا سالانہ اجتماع منعقد ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ مبارک کرے اور اچھے نتائج نکلیں۔ہر اجتماع کی کوئی غرض ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں سورۃ النساء آیت 115 میں فرماتا ہے۔لا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَّجُوهُمُ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا (نساء: 115) اسلام ایک مکمل اور عالمگیر مذہب ہے جس نے زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق مکمل ہدایات دی ہیں۔اجتماعوں اور مجالس کے متعلق اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ صرف تین قسم کے اجتماع دنیا کے لئے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔اوّل مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ جو انجمنیں اپنے اجلاس کریں یا اجتماع بلائیں ان کا مقصد غرباء کی خبر گیری اور حاجت مندوں کی حاجت روائی ہو۔دوم : مَنْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ۔اس اجتماع میں نیک امور کی تلقین کی جائے۔تعلیم دینی و دنیوی کی اشاعت اعلیٰ اخلاق کا قائم کرنا اس کے اندر آ جاتا ہے۔سوم : مَنْ أَمَرَ بِإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ۔اس کا مقصد لوگوں کی اصلاح کرنا ہو۔پس ہمارے اجتماع میں ان مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے پروگرام بننے چاہئیں۔پروگرام کا بھی ایک مقصد ہونا چاہئے کہ گذشتہ سال کے کاموں کا جائزہ لیا جائے اور آئندہ پروگرام بنائے جائیں گذشتہ سال کا موازنہ اس سے پہلے سال سے کیا جائے کہ کتنے فی صد ترقی کی ہے۔مومن کا قدم ہمیشہ ترقی کی طرف اُٹھتا ہے، رکتا نہیں پس با ہمی تعاون اور اتحاد ایک دوسرے کے عیب سے چشم پوشی کرتے ہوئے ہر ایک سے ہمدردی اور محبت کا رویہ اختیار کرتے ہوئے شاہراہ غلبہ اسلام پر