خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 527 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 527

خطابات مریم 527 خطابات جماعت احمدیہ نائیجیریا کا صدر مقام ہے خریدا ہوا تھا اس کے اردگرد چار دیواری اور شیڈ بنوایا ہوا تھا۔میرے قیام کے دوران بھی ایک تقریب وہاں ہوئی تھی۔20 رفروری 1988ء کو حضرت خلیفۃ اسیح الرابع نے جب آپ اس ملک کا دورہ فرما رہے تھے سنگ بنیا درکھا۔تمام بیرونی لجنات کو کہا گیا تھا کہ جشن تشکر صد سالہ سے قبل اپنے ملک کی تاریخ شائع کریں انڈونیشیا کی لجنہ اپنی تاریخ شائع کر چکی ہیں۔لجنہ ماریشس۔جرمنی۔گیمبیا اور ہالینڈ کی لجنات نے اپنی اپنی لجنہ کی تاریخ لکھ لی ہے۔اپنی زبان میں ترجمہ کے بعد اگلے سال تک امید ہے کہ شائع کر دی جائینگی باقی بجنات بھی تیاری کر رہی ہیں۔لجنہ مرکزیہ کی تاریخ 1977 ء تک شائع شدہ ہے۔1977ء سے 1982ء تک کے حالات پر پانچویں جلد کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔اور پوری کوشش کی جائے گی کہ خلافت ثالثہ کے اختتام تک کے حالات پر مشتمل یہ جلد اگلے سال شائع ہو جائے۔تین لڑکیاں فی الحال اس کام کو محنت کے ساتھ کر رہی ہیں۔انشاء اللہ اب اس میٹنگ کے بعد خصوصی توجہ اس کام کی طرف دوں گی۔اس عرصہ میں کام کرنے والی اچھی کارکنات کے حالات یا خصوصی کاموں کا تذکرہ ضرور بھجوائیں شامل کیا جائیگا۔یعنی 1977ء سے 1982 تک کے۔اس کے علاوہ ہر لجنہ کے متعلق کہ کب قائم ہوئی۔کون پہلی صد تھی لجنات کوسرکر بھجوایا تھا۔اس میں ہمارے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے۔اس سال پاکستان میں شدید سیلاب آیا جس کی تفصیلات کا آپ کو علم ہی ہے۔سیلاب کی وجہ سے ہی اجتماعات ملتوی کر دئے گئے۔دیہات سے بہنوں کو پہنچنا مشکل تھا۔خدام الاحمدیہ نے ہر جگہ اپنے کیمپ لگائے۔اور خدام الاحمدیہ اور لجنہ نے مل کر سیلاب زدگان کے لیے کام کیا۔ضرورت خدام کی طرف سے لجنہ کو بتادی جاتی تھی۔گندم۔کپڑے۔کھانا پکا کر۔بستر جمع کرنے لجنہ کا کام تھا۔اور جہاں جہاں سیلاب آیا ان ضلعوں کی لجنہ نے بہت کام کیا۔مکرمی صدر صاحب خدام الاحمدیہ نے مجھے یہ بتایا کہ اس طرح کام کرنا بہت کامیاب رہا ہے۔کہتے ہیں کہ سب سے اچھا کام سیالکوٹ کا رہا۔پھر ضلع شیخو پورہ کا۔پھر ساہیوال کا۔اور اس کے بعد ملتان اور گوجرانوالہ کا۔لجنہ کی سالانہ رپورٹ میں ہمیں سیلاب کی رپورٹیں صرف گوجرانوالہ، فاروق آباد، ضلع شیخوپورہ، داتہ زید کا ضلع سیالکوٹ ، جلیل ٹاؤن ضلع گوجرانوالہ ،شہر شیخو پورہ، شہر وضلع