خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 494 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 494

خطابات مریم 494 خطابات خطاب لجنہ اماءاللہ ڈنمارک 1987ء حضرت سیدہ چھوٹی آپا صاحبہ نے ڈنمارک میں اپنے دورہ کے دوران ایک اجلاس میں ممبرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔پچھلے سال حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے خاص ارشاد پر سنگا پور اور انڈونیشیاء کی لجنات کا دورہ کیا تھا۔اور اس سال ڈنمارک۔ناروے۔سویڈن اور ویسٹ افریقہ۔جرمنی کے دورہ کا پروگرام ہے۔حضور کا منشاء ایک تو یہ ہے کہ بیرون ممالک کی لجنہ کے حالات خود دیکھے جائیں اور پھر ان کے مطابق تربیتی پروگرام بنائے جائیں۔دوسرا یہ کہ ہر لجنہ کا مزاج ایک جیسا ہونا چاہئے چاہے وہ یورپ کی لجنہ ہو یا امریکہ کی یا افریقہ کی۔مزاج کا یہ مطلب ہے کہ ہم سب کا مقصد ایک ہی ہونا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس لئے مبعوث فرمایا کہ قرآن کریم کی تعلیم کو دوبارہ رائج کیا جائے۔جو نعمت آپ کو ملی ہے اس سے دنیا کو روشناس کروایا جائے۔اور پھر اس پر عمل بھی کروایا جائے۔صرف زبانی دعوی سے دنیا آپ کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتی۔جب تک کہ آپ کا عمل بھی اس تعلیم کے مطابق نہ ہو جو تعلیم آپ دنیا کو دے رہے ہیں۔مختلف جگہوں پر رہنے والوں کا لباس اور کچر مختلف ہوتا ہے۔لیکن سب کا مقصد ایک ہی ہونا چاہیے۔ہم میں سے ہر ایک کو واقفیت ہونی چاہیے کہ اسلام پر کیا اعتراض پڑتے ہیں۔ہمیں اُن کا جواب آنا چاہیے وہ اعتراضات بھی اپنے عمل سے دُور کرنے چاہئیں۔ہر جگہ کی بجنات اس بات کو فرض قرار دے لیں کہ اپنے نمونہ سے انہوں نے اپنے دعوئی کو ثابت کرنا ہے۔حضور نے فرمایا ہے کہ آئندہ صدی میں داخل ہونے سے پہلے ہمیں اپنی سب کمزوریوں کو دور کر دینا چاہیے۔ناصرات اور اطفال کی تربیت پر بہت توجہ دینی چاہیے۔کیونکہ آئندہ چند سال میں انہوں نے ہی جماعتی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں۔میرا فرض ہے کہ میں آپ کو آپکی کمزوریوں کی طرف توجہ دلاؤں۔اور امید ہے کہ آپ میری باتوں پر عمل بھی