خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 293 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 293

خطابات مریم 293 خطابات فضل عمر تعلیم القرآن کلاس کی اختتامی تقریب میں طالبات سے خطاب اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔وَهذَا كِتُبُ أَنْزَلْنَهُ مُبْرَكَ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الانعام: 156) اور یہ ( قرآن ) ایسی کتاب ہے جسے ہم نے اُتارا ہے اور یہ برکت والی ہے۔پس اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔اس آیت میں بہت سے دعوے ہیں۔پہلا تو یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کتاب کے اُتارنے والے ہم ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی راہنمائی کے لئے نازل ہوا جس میں کوئی ملاوٹ کوئی بات ایسی نہیں ہوگی جو بنی نوع انسان کو کسی پہلو سے نقصان پہنچا سکے۔مبارک ہے اس میں برکت ہی برکت ہے جو اسے پڑھے گا ، جو پڑھائے گا، جو اس پر عمل کرے گا اللہ تعالیٰ کی برکتیں اس پر نازل ہوں گی۔ایک اور معنی ہیں برکۃ یعنی تالاب کو کہتے ہیں۔پس مبارک کے معنی ہوئے کہ ہر قسم کی برکتوں اور خیر کا مجموعہ۔پھر کہا گیا اس کی پیروی کرو۔قرآن صرف اس لئے نہیں کہ اس کو برکت کے لئے ناظرہ پڑھ لیا جائے۔ختم ہونے کے بعد کھول کر نہ دیکھا جائے۔صرف الفاظ سے آپ کیا سمجھ سکتی ہیں جب تک مطلب نہ معلوم ہو۔پس عمل کے لئے ضروری ہے کہ ترجمہ سیکھو، مطلب سمجھو اس کی گہرائیوں تک جانے کی کوشش کرو اور ساتھ ہی تقویٰ بھی اختیار کرو کیونکہ تقویٰ اختیار کئے بغیر صحیح طور پر قرآن مجید کی تعلیم پر عمل کرنا مشکل کام ہے۔تقویٰ کیا ہے؟ وقی کہتے ہیں بچنے کو۔یعنی کوشش کر کے ہر بُرائی سے بچنا اور اپنے کو محفوظ رکھنا۔جب انسان بُرائیوں سے بچنے کی توفیق اللہ تعالیٰ کے فضل سے پا لیتا ہے تو پھر نیکیوں میں بڑھنے کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ مذکورہ آیت میں فرماتا ہے کہ