خطابات مریم (جلد دوم) — Page 273
خطابات مریم 273 خطابات سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ ( بر موقع جلسہ سالانہ 1981ء) حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم سید نا حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی زوجہ محترمہ تھیں جن کو حضور کی زوجیت کیلئے خود باری تعالیٰ نے منتخب فرمایا تھا تا آپ دونوں کے ذریعہ سے ایک نئے خاندان کی بنیا د رکھی جائے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اشاعت دین کا کام لینا تھا۔آنحضرت مہ نے آنیوالے مسیح کے متعلق فرمایا تھا: يتزوج ويولد له حضرت اقدس ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 337 میں بیان فرماتے ہیں۔وو ' جناب رسول اللہ اللہ نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ويولد له یعنی وہ بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا اب ظاہر ہے کہ یتزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا اور اولا د بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ یتزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولا د ہے جسکی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے گویا اس جگہ رسول اللہ لیے ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“ قبل اس کے کہ میں وہ بشارتیں بیان کروں جو اس شادی سے قبل حضور کو دی گئی تھیں حضرت اماں جان کے خاندان کے متعلق کچھ بیان کروں گی۔حضور کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً بیان فرمایا کہ:۔66 " الحمد لله الذي جعل لكم الصهر والنسب» (تذكره صفحه 37)