خطابات مریم (جلد دوم) — Page 218
خطابات مریم 218 يُعلّمُهُمُ اب والحكمة ، وإن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ - خطابات وأَخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمع : 4،3) b ترجمہ: وہی خدا ہے جس نے ایک ان پڑھ قوم کی طرف اُسی میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا ( جو با وجود ان پڑھ ہونے کے ) اُن کو خدا کے احکام سناتا ہے۔اور اُن کو پاک کرتا ہے اور اُن کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے گو وہ اس سے پہلے بڑی بھول میں تھے اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی وہ اس کو بھیجے گا جو ابھی تک اُن سے ملی نہیں اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ آخرین کون ہیں؟ تو آپ نے سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِند الثرِيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هَوَلَاءِ (بخارى كتاب التفسير سورة الجمعة) یعنی اگر ایک وقت ایمان ثریا تک بھی اُڑ گیا تو اہل فارس کی نسل سے ایک یا ایک سے زیادہ لوگ اُسے واپس لے آئیں گے۔اس حدیث میں مسیح موعود کی خبر دی گئی تھی۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور قرآنی بشارتوں کے مطابق حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تا آپ کے ذریعہ اس زمانہ میں اسلام کا غلبہ تمام ادیان پر ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے قبل مسلمان صرف نام کے مسلمان تھے۔عیسائیت ، دہریت، آریہ دھرم، برہمو سماج ہر مذہب اپنے تمام حربوں کے ساتھ اسلام پر حملہ آور تھا اور ان حملوں کا جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دفاع کیا اور پھر خو داسلام کی حقانیت کے دلائل کے ساتھ نہ صرف اسلام پر اعتراضات کرنے والوں کا منہ بند کیا بلکہ اسلام کی صداقت کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش کیا کہ کوئی جواب نہ دے سکا۔مایوس دلوں میں امید کی شمعیں جلنے لگیں اور دنیا کو نظر آنے لگ گیا کہ اسلام زندہ مذہب ہے اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔اللہ تعالیٰ نے بشارتوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا کہ خدا آپ کے ساتھ ہے اور اس کے وعدے اپنے وقت پر پورے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس یقین