خطابات مریم (جلد دوم) — Page 206
خطابات مریم 206 خطابات میں نمایاں تعداد ایسی خواتین کی نظر آتی ہے جو ناظرہ نہیں جانتیں۔ترجمہ نہیں جانتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا انہیں کوئی علم نہیں۔ایسی خواتین کیا فائدہ پہنچا سکتی ہیں جماعت کو۔پس میری بہنو ! آپ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے وقت کم اور کام زیادہ ہے ہم نے حضرت مہدی علیہ السلام کو مانا ہے جنہوں نے ہمارے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے جن کے ذریعہ ہم نے اپنے رب کو پہچانا ہے لیکن صرف زبان یا دل سے مان لینا کافی نہیں جب تک عمل ہمارے قول کا ساتھ نہ دے۔جماعتی جد و جہد میں حصہ لینے اور عظیم قربانیاں پیش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایمان میں کمزوری نہ آنے پائے۔اس یقین پر ہمیشہ قائم رہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ ہمارے شامل حال رہے گا بشرطیکہ ہمارے قدم مستحکم رہیں ان میں کسی قسم کی لغزش نہ آئے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے گھروں میں اور ہمارے بچوں کے سامنے تاریخ احمدیت ، تاریخ اسلام کے واقعات بیان کئے جائیں ان کے دل میں مذہب سے گہری محبت اور مذہب کیلئے غیرت پیدا کی جائے تا جب وہ بڑے ہوں تو سلسلہ کی خاطر ہر قربانی دے سکیں۔پھر یہ بھی خیال رکھا جائے کہ ان کو دینی تعلیم مل رہی ہے یا نہیں۔اگر آپ اپنے بچوں کو دینی تعلیم نہیں دیتیں تو دہریت اور دجالیت کی آگ سے ان کو محفوظ نہیں رکھ سکتیں۔جن کو دین کا کچھ علم نہیں ہو گا وہ بُری سوسائٹی کا اثر جلد قبول کرتے ہیں۔پس بچائیے اپنے بچوں کو اُخروی آگ اور اس دنیا کی آگ سے بھی اور اچھے انسان بنائیے جو ہر قسم کے فتنہ وفساد سے دور رہنے والے ہوں جن کے دلوں میں بنی نوع انسان کی محبت ہو۔جن کے دلوں میں دکھی انسانیت کا درد ہو جو ہر ایک کے ہمدرد ہوں اور خدمت خلق کا جذبہ رکھتے ہوں۔ایسے انسان کہاں سے آئیں گے آپ کی گودوں کے پالے اور پرورش کئے ہوئے تربیت یافتہ۔اگر اگلے دس سال میں مائیں اپنے وقت لغو باتوں میں ضائع کرنے کی بجائے اس اعلیٰ مقصد کو سامنے رکھیں کہ انہوں نے بھر پور کوشش کرنی ہے اپنے بچوں اور بچیوں کی تربیت کی تو یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ان کا ہوگا لیکن اس کے لئے ان کو پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔ایک نیک نمونہ پیش کرنا ہو گا۔اب جو مائیں خود پردہ میں بے پروائی کرتی ہیں وہ کیسے امید رکھ