خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 173 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 173

خطابات مریم 173 خطابات زنانہ کالج اور زنانہ سکول میں مستورات ٹھہرا کرتی تھیں۔لیکن سکول و کالج قومی تحویل میں لئے جانے کے باعث وہاں اب مہمان خواتین کا ٹھہر ناممکن نہ رہا۔گزشتہ سال تمام خواتین کا انتظام جو لجنہ کے زیر انتظام ٹھہرتی ہیں خیموں میں کیا گیا۔احمدی بڑی قربانی دینے والے ہیں لیکن بارش کی وجہ سے اور تیز ہوا چلنے کی وجہ سے عورتوں کو جن کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں خیموں میں خاصی تکلیف پہنچنے کا ڈر رہا۔گزشتہ سال ہی مہمان خانہ کی تعمیر شروع کر دی گئی اس وقت تک 2،07،881 روپے جمع ہو چکے ہیں اور مہمان خانہ کی تکمیل کے لئے گل 3،28،500 روپے کی ضرورت ہے۔ابھی آپ نے 619 ، 20 ، 1 روپے اور جمع کرنے ہیں۔ہماری وہ بہنیں جو جماعت کی ہر تحریک پر لبیک کہنے کی عادی ہیں اور تین مساجد انگلستان و یورپ میں تعمیر کروا چکی ہیں ان کے لئے یہ رقم کوئی بڑی رقم نہیں۔اس کی تحریک زیادہ تر الفضل کے ذریعہ کی جاتی رہی ہے۔ہو سکتا ہے کہ جن گھرانوں میں الفضل نہ جاتا ہو ان تک یہ تحریک نہ پہنچ سکی ہو اس لئے بجنات کا فرض ہے کہ ہر احمدی خاتون تک یہ تحریک پہنچائیں تا بعد میں کسی کو یہ افسوس نہ ہو کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی اس تحریک میں شمولیت سے میں محروم رہ گئی۔گو یہ تحریک صرف پاکستان کی خواتین سے کی گئی تھی لیکن بہت سی غیر ملکی خواتین نے جن میں سے اکثریت امریکن نو مسلم خواتین کی تھی مجھے لکھا کہ ہمیں الفضل سے بعض پاکستان سے گئی ہوئی خواتین نے پڑھ کر بتایا کہ ربوہ میں عورتوں کیلئے مہمان خانہ بن رہا ہے۔آپ نے ہمیں ثواب سے کیوں محروم رکھا کس نے ان کے دلوں میں یہ جذبہ پیدا کیا۔صرف حضرت مہدی علیہ السلام کو مان کر اسلام قبول کر کے وہ لوگ جو دنیاوی تکلفات کے عادی اور دین کیلئے ایک سینٹ خرچ کرنا نہ جانتے تھے آج خود خواہش ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں ثواب کا موقعہ دیا جائے جو کام شروع کیا جائے قربانی دینے والے آگے آجاتے ہیں اور کام مکمل ہو جاتا ہے لیکن جو وقت پر قربانی نہیں دیتا وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔میں ہر اُس بہن کو جس نے ابھی تک اس میں حصہ نہیں لیا تحریک کرتی ہوں کہ وہ جلد سے جلد حصہ لیں۔خود بھی اور دوسروں کو بھی تحریک کریں جلسہ سالانہ تک یہ کمل ہو جائے۔یہ مہمان خانہ بھی ہماری ضرورتوں کے لئے کافی نہیں۔اس کے بعد کوئی تجویز آپ کے