خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 80
80 سیرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے اپنے اقوال کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت پر وہی قلم اُٹھا سکتا ہے جس نے آپ کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہو اور آپ کا زمانہ پایا ہو۔بعد میں آنے والے تو صحابہ کے اقوال یا روایات سے ہی آپ کی سیرت کے متعلق کچھ لکھ سکتے ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کی سیرت کے متعلق وہی باتیں لکھوں جو آپ نے اپنے متعلق خود فرمائی ہیں۔اس میں کیا شک ہے کہ آپ کے اپنے منہ سے نکلی ہوئی باتوں سے بڑھ کر اور کیا سند ہو سکتی ہے۔پس اس مضمون میں آپ کی سیرت کے متعلق میں نے وہ تمام اقوال یا تحریرات جمع کرنے کی کوشش کی ہے جو خود آپ کے منہ سے نکلے ہوئے ہیں یا آپ کے قلم سے تحریر کردہ ہیں۔ایک شبہ کا ازالہ:۔مضمون کی تفصیل میں جانے سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس درج کرتی ہوں تا کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ اپنے اوصاف اپنے منہ سے بیان کرنا خودستائی ہے جونا پسندیدہ امر ہے وصف وہی سمجھا جائے گا جو دوسرے بیان کریں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر انسان کا ایک مقام نہیں ہوتا خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں اور انبیاء کو وہ مقام حاصل ہوتا ہے جب وہ خود اپنی تعریف اور اپنے اخلاق کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے مجبور ہوتے ہیں تا دنیا ان سے واقف ہو اور ان کی اتباع کرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ایک اعتراض ہم پر یہ ہوتا ہے کہ اپنی تعریف کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مطہر اور برگزیدہ قرار دیتے ہیں۔اب لوگوں سے کوئی پوچھے کہ خدا تعالیٰ جو امر ہمیں فرماتا ہے کیا ہم اس کی نافرمانی کریں۔اگر ان باتوں کا اظہار نہ کریں تو معصیت میں داخل ہوں۔قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کی نسبت کیا کیا الفاظ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شان میں فرمائے ہیں ان لوگوں کے خیال کے مطابق تو وہ بھی خودستائی ہوگی۔خودستائی کرنے والا حق سے دور ہوتا ہے مگر جب خدا تعالیٰ فرمائے تو پھر کیا کیا جائے۔یہ اعتراض ان نادانوں کا صرف مجھ پر ہی نہیں ہے بلکہ آدم سے لے کر جس قدر نبی رسول از کیا اور مامور گزرے ہیں سب پر ہے۔ذرا غور کرنے سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ جسے خدا تعالیٰ مامور کرتا ہے ضرور ہے کہ اس کے لئے اجتباء