خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 750 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 750

750 برکت سے خدائے واحد کے جھنڈے گارڈ دیئے گئے۔اور قوموں کی قومیں حضرت محمد ﷺ کی غلامی میں داخل ہونے پر فخر محسوس کرنے لگیں۔اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تحریک قرآن کریم ناظرہ کا ذکر فرماتے ہوئے آپ نے پر زور الفاظ میں تحریک فرمائی کہ ہر عورت اور ہر بچی کا قرآن کریم اور اس کا ترجمہ جاننا بھی نہایت ضروری ہے۔فرمایا کہ جیسا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے لجنہ کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر فرمایا تھا کہ میں نے اپنے خدا سے عہد کیا ہے کہ میں تین سال تک ساری جماعت کو قرآن کریم پڑھا دوں گا۔ہمیں چاہئے کہ پورا زور آپ کے اس عہد کو پورا کرنے میں لگا دیں۔جب تک ہم قرآن کریم پڑھیں گے نہیں اور اس کے مطالب سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے ہم اس کی تعلیم پر عمل کس طرح کر سکتی ہیں۔آپ نے اس بات پر تعجب کا اظہار فرمایا کہ لڑکیاں بی اے اور ایم اے کی تعلیم کے لئے بڑی بڑی کتابیں اور بڑے مضامین از برکر لیتی ہیں۔لیکن وہ چھوٹی سی کتاب جو نجات کا باعث ہے جس کا پڑھنا بھی آسان اور اس پر عمل کرنا بھی آسان ہے اس کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔تمام علوم کا خزانہ قرآن کریم ہی ہے۔جس نے اسے پڑھ لیا اس پر علوم کا دروازہ کھل گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو شخص قرآن کریم کے سات سواحکام میں سے ایک کو بھی تو ڑتا ہے اسے اپنے انجام کی فکر کرنی چاہئے لیکن اگر آپ کو ان احکام کا علم ہی نہ ہوگا تو آپ کو کیا پتہ لگ سکتا ہے کہ آپ کس کس حکم کو توڑ کر اپنے اوپر نجات کا دروازہ بند کر رہی ہیں۔ازاں بعد بچوں کی خاص طور پر اچھی تربیت دینے پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ تربیت کی ذمہ داری بڑی حد تک ماؤں پر ہے بچوں کو دیندار بنانے اور انہیں نمازوں کے لئے مسجد میں بھیجنے اور اشاعت اسلام کے لئے زندگیاں وقف کرنے کی ترغیب دیں۔آپ نے قرون اولیٰ کی مسلمان خواتین کی مثالیں دے کر سامعات کو اپنے بچوں کی زندگیاں وقف کرنے کی ترغیب دلائی۔انہیں جامعہ احمدیہ میں داخل کروانا اور مبلغین اسلام بنانا ان کے دلوں میں اسلام کے لئے قربانیاں دینے کا جذبہ پیدا کرنے کی بڑی ذمہ داری ماؤں پر عائد ہوتی ہے۔زاں بعد بدعات اور رسومات کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ رسومات اور بدعات پھر سر اٹھا رہی ہیں۔ہر قسم کی بد رسومات کو روکنے کے لئے ہر لجنہ کو خاص طور پر مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔آپ نے واضح فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسلمانوں کو بدعات اور رسومات سے نجات دلانے کے لئے آئے ہیں۔اور اس زمانہ کے لئے حکم