خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 726 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 726

726 تحریک جدید کا دفتر سوم اور احمدی خواتین کا فرض حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر جماعت کے سامنے تحریک جدید کو پیش فرمایا جس کے نتیجہ میں آج دنیا کے اکثر ممالک میں اسلام کے مراکز قائم ہو چکے ہیں۔اسلام پھیل رہا ہے۔مساجد تعمیر ہو چکی ہیں اور اس انقلاب کے آثار افق پر ہمیں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں جس انقلاب کی بشارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو دی تھی۔تحریک جدید حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے 1934ء میں جاری فرمائی مخلصین جماعت جن میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی نے لبیک کہتے ہوئے اپنا مال دینا شروع کیا۔نئے شامل ہونے والوں نے اپنے سے پہلوں کا بوجھ اٹھا لیا۔پہلے قربانیاں پیش کر کے اپنے مولا کے حضور حاضر ہوتے رہے یا بعض بوڑھے معذور ہونے کے باعث اس درجہ کی قربانیاں پیش کرنے سے مجبور ہو گئے۔دور دوم کے بعد اگر چہ حضرت مصلح موعود کی لمبی بیماری کے باعث دور سوم جلد نہ شروع ہو سکا لیکن دور دوم میں شامل ہونے والوں نے بھی عظیم الشان قربانیاں دیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 65ء سے دور سوم کا اجراء فرمایا تا نئی نسل کو بھی قربانیوں کی ویسی ہی مشق ہو جیسے ان کے بڑے کرتے چلے آئے ہیں۔تحریک جدید صرف مردوں کے لئے نہیں بلکہ اس میں شامل ہونا جس طرح مردوں کے لئے ضروری ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ضروری ہے۔بے شک یہ تحریک لازمی نہیں اس میں شامل ہونا اختیاری ہے لیکن اگر شامل ہونے کی طاقت ہو اور کمزوری کے باعث شمولیت نہ کرے تو یہ بھی ایک بہت بڑا گناہ ہے کہ امام ایدہ اللہ کی طرف سے ایک تحریک ایسی تحریک جو اسلام کی تقویت اور اشاعت کا باعث ہو اور خواتین اس میں حصہ نہ لیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کا نوجوان طبقے پر احسان ہے کہ تحریک جدید کے دفتر سوم کا اعلان فرمایا تا وہ جو کل بچیاں تھیں آج مالی حیثیت رکھتی ہیں دفتر سوم میں شامل ہو کر ان برکات سے متمتع ہوسکیں جو تحریک جدید اپنے اندر رکھتی ہے۔لجنہ اماءاللہ کے پروگراموں میں ایک ضروری حصہ تحریک جدید بھی ہے۔ہر صدر اور سیکرٹری کا فرض ہے کہ اس کے پاس اپنی نمبرات کے متعلق مکمل معلومات ہوں کہ کتنی مستورات تحریک جدید میں شامل ہیں۔