خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 691 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 691

691 نصائح حضرت سیدہ ام متین صاحبه بر موقع تربیتی جلسه لجنہ اماءاللہ ربوہ تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا کہ جس طرح درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح جماعت کی ترقی اس کے افراد سے ظاہر ہوتی ہے۔ہمارے اندر وہ بنیادی صفات پیدا ہونی چاہئیں جو ایک زندہ جماعت کا طرہ امتیاز ہوتی ہیں۔اخلاق ،سچائی ، امانت ، ایفائے عہد اور باہمی سلوک ایسی صفات ہیں جن سے عظیم الشان روحانی انقلاب پیدا کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ کے اوراق ان صفات سے مزین ہیں۔حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ ہر قوم کی اچھی باتوں کو اختیار کرو اور بری باتوں کو چھوڑ دو۔چنانچہ مغربی اقوام نے آپ ﷺ کے اس قول کو اپنایا اور انہوں نے اسلام کی اچھی اچھی باتیں اختیار کر لیں۔آج وہ لوگ اخلاق ، دیانت ، ایفائے عہد اور سوچ بچار کے لحاظ سے اعلیٰ معیار پر ہیں۔وہ عادتا سچ بولتے ہیں۔حالانکہ یہ خوبیاں ایک مسلمان میں نمایاں طور پر ہونی چاہئیں۔آپ نے احمدی بچیوں خصوصاً کالج کی بچیوں سے فرمایا کہ وہ اپنے وجودوں کو سلسلہ کے لئے مفید اور کارآمد بنائیں۔تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے کہ اس سے دماغ روشن ہو۔قوم کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو اور جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں تو اپنے فرائض کو ادا کریں۔آپ نے فرمایا کہ اس کی ذمہ داری ماں باپ اور اس کے بعد اداروں پر عائد ہوتی ہے۔یہی درسگاہیں ہیں جہاں سے انہیں اخلاق اور علم و عمل کی شمع لے کرتاریک دنیا کو منور کرنا ہے۔پس اپنے نصب العین کو سامنے رکھیں اور آگے بڑھتی جائیں۔الفضل مورخہ 5 اکتوبر 1960 ء