خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 684
684 کی اصلاح کے لئے لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کی بنیاد رکھی تا جماعت کی مستورات متحد ہوکر اپنی تعلیمی وتربیتی ترقی سے اسلام اور احمدیت کی خدمت کرنے والیاں بن جائیں۔آپ نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی ایک تقریر کا اقتباس پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت کی آئندہ ترقی کا انحصار آج کے نونہالوں پر ہے اور ان نونہالوں نے اپنی ماؤں کی زیر تربیت پرورش پانی ہے۔اس لئے ایک ماں جس کردار کی ہوگی اسی کا اثر بچے قبول کریں گے۔پس عورت کی اصلاح کی بہت ضرورت ہے اور بچوں کی اصلاح عورتوں کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے۔تقریر کو جاری رکھتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ لجنہ اماء اللہ کی تنظیم جس کی بنیاد صرف 14 مستورات پر رکھی گئی تھی خدا کے فضل سے یہ تنظیم آج بین الاقوامی تنظیم بن چکی ہے اس کی شاخیں نہ صرف سارے ہندوستان میں بلکہ غیر ممالک میں بھی پھیل چکی ہیں۔سیدنا حضرت مصلح موعود کی 52 سالہ خلافت کا ہر دن اس بات پر شاہد ہے کہ آپ نے مستورات کی تعلیم و تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔اور ان کے اندر مالی قربانی کا ایسا جذبہ پیدا کر دیا ہے کہ عورتوں نے صرف اپنے چندے سے اس وقت لنڈن، ہالینڈ اور ڈنمارک میں تین مساجد تعمیر کی ہیں۔اس کے علاوہ سادہ زندگی گزارنے کا ایک ایسا جو ہر آپ نے مستورات میں پیدا کر دیا ہے کہ خلیفہ وقت کی طرف سے جس مالی تحریک کا اعلان کیا جاتا ہے خدا کے فضل سے دنیا بھر کی احمدی مستورات اس میں حصہ لے کر شامل ہوتی ہیں۔اب ہمارے موجودہ امام سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث اید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی عورت کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ فرمائی ہے قرآن مجید کی تعلیم سیکھنے کی طرف توجہ فرمائی ہے قرآن مجید کی تعلیم سیکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جماعت کی کوئی عورت کوئی بچی ایسی نہیں ہونی چاہئے جو قرآن مجید نہ جانتی ہو۔پھر رسومات کے خلاف بار بار توجہ دلائی ہے کہ جماعت میں سے بد رسومات کا خاتمہ ہونا چاہئے۔حضور کی تقریر کے اقتباسات پیش کرتے ہوئے آپ نے بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ بہنوں کو اس تنظیم کے ماتحت اس کا پورا انتظام کرنا چاہئے اپنی زندگی کو آئندہ نسلوں کے لئے بہترین نمونہ بنانا چاہئے۔پس آئیں آج اس مبارک تقریب کے موقع پر ہم سب ملک کر اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو جو گزشتہ سالوں میں ہم سے ہوئی ہیں دور کرنے کا عہد کریں اور ایک نئے عزم اور ارادے کے ساتھ اپنی اپنی لجنہ میں نئی روح پیدا کرنے کی کوشش کریں اور جماعت کے ننھے بچے اور بچیاں جو آپ کے پاس قوم کی امانت ہیں ان کی بہترین رنگ میں تربیت کریں تا ہمارے بچے آج سے ہی ان قربانیوں کے لئے تیار ہوں جائیں جن کی دین اسلام کو ضرورت ہے۔البدر 4 جنوری 1973ء