خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 617 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 617

617 اطاعت کے نتیجہ میں دن بدن ترقی کرتے گئے اور مسلمان عورتوں نے بھی بے مثال قربانیاں پیش کیں۔بعد میں اسلام قبول کرنے والی خواتین میں جذبہ قربانی اتم طور پر موجود تھا۔جب مسلمانوں نے قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنا چھوڑ دیا۔دنیا کو دین پر ترجیح دینے لگے۔انعام خلافت کی قدر کرنی چھوڑ دی۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے سائے بھی ان پر سے ہٹنے لگ گئے اور دیکھتے دیکھتے وہ وقت آگیا جس کے متعلق قرآن مجید میں پہلے سے بتا دیا گیا تھا کہ إِذَا الشَّمْسُ كُوّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ وَإِذَا الْعِشَارُ عُقِّلَتْ وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ وَإِذَا الْبِحَارُ سُحِرَتْ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتُ۔وَإِذَا مَوْءُ دَةٌ سُئِلَتْ بِآتِ ذَنْبٍ قُتِلَتْ وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتُ۔وَإِذَا الْجَحِيمُ سُقِرَتْ وَإِذَا الْجَنَّةُ اخْلِفَتْ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُمْسِ وَاللَّيْلِ اَذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفْسَ۔(التكوير : 2تا19) نہ دین کا علم رہا نہ دنیاوی طور پر ہی ترقی یافتہ قوموں میں شمار باقی رہا۔نام کے مسلمان رہ گئے تمام عمل اسلام کے خلاف تھے۔یہی زمانہ تھا جب باقی تمام مذاہب نے اسلام کو اپنا شکار سمجھ کر اس پر ہر طرف سے حملے کرنے شروع کر دئے تھے مسلمانوں میں اس قدر مایوسی غالب آچکی تھی کہ مقابلہ کرنا تو کجاوہ اسلام کی ترقی اور بقاء سے ہی مایوس ہو چکے تھے کوئی ہندو دھرم اختیار رہا تھا۔تو کوئی عیسائیت کا شکار ہورہا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کی پہلے سے خبر دیدی تھی اور یہ بھی بشارت دی تھی کہ آخری زمانہ میں اسلام کا پھر غلبہ ہوگا پھر نئی صبح طلوع ہوگی اور خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہی ایک خادم کو کھڑا کرے گا اس کا آنا ہوگا اور اس قوم کی تربیت اور تزکیہ نفس پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ سے ہوگا۔خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہا تھا۔وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (سورة الجمعه: 4) اور صحابہ کے پوچھنے پر کہ وہ کون لوگ ہوں گے آپ نے فرمایا تھا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو ابنائے فارس میں سے ایک شخص اسے واپس لے آئے گا۔چنانچہ الہی نوشتوں کے مطابق اپنے وقت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت اس غرض سے ہوئی کہ