خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 616
616 لجنہ اماءاللہ کے پندرھویں سالانہ اجتماع 1972 کے موقعہ پر افتتاحی خطاب فرمایا! آج ہمارے دل خوشی اور مسرت کے جذبات سے لبریز ہیں کیونکہ اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ اماءاللہ کے قیام پر پچاس سال پورے ہورہے ہیں جس کی خوشی منانے کی غرض سے آج ہم اس جگہ جمع ہوئی ہیں۔سب سے پہلے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے جس نے اسلام جیسی نعمت ہمیں عطا کی۔اور اپنے بندوں کو سیدھے راستہ پر چلانے کی خاطر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا یہ وہ زمانہ تھا جب ساری دنیا گمراہی اور جہالت کا شکار ہو چکی تھی اپنے معبود حقیقی اور خالق سے کوئی واسطہ نہ تھا۔کوئی پتھروں کو پوجتا تھا تو کسی نے اپنے مطلب کے معبود بنالئے ہوئے تھے۔عورت کی کوئی عزت نہ تھی اسے کوئی حقوق حاصل نہ تھے۔اس دنیا میں آکر اس کا کام صرف مرد کو خوش رکھنا اور اس کی خدمت کرنا تھا۔ہزاروں درود و سلام اس محسن انسانیت اور محسن نسواں پر جس نے دنیا کو بتایا کہ عورت بھی اتنی ہی قابل قدر ہستی ہے جتنا مرد۔جس نے بتایا کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے جس نے بتایا کہ بیٹی کے پیدا ہونے پر غم نہ کرو بلکہ اس کی اسی طرح پرورش کرو جس طرح بیٹے کی۔جس نے بیٹی کو ماں باپ کے ترکہ میں حصہ دار قرار دیا جس نے فرمایا کہ بیٹی کی اچھی طرح تربیت کرنے والا اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے جیسے دو انگلیاں۔پھر صرف حقوق ہی نہیں بلکہ عورت کو اس کی ذمہ داروں کا احساس دلایا۔قومی ذمہ داریوں اور اولاد کی تربیت میں اسے مرد کا ساتھ قرار دیا۔اسلام نے آج سے چودہ سوسال پہلے جو عزت اور حقوق مسلمان عورت کو عطا کئے۔آج انتہائی ترقی یافتہ ممالک بھی اب تک نہیں دے سکے۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں ازواج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابیات نے جو عظیم الشان قربانیاں دیں جس لگن سے اسلام اور قرآن کو سیکھا وہ تاریخ اسلام کے درخشاں ابواب ہیں۔ہر قربانی میں حصہ لینے کا انتہائی شوق تھا۔یہاں تک کہ جنگوں تک میں حصہ لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات کو جاری رکھنے کے لئے خلافت کا سلسلہ جاری فرمایا۔جب تک مسلمان خلافت سے وابستہ رہے خلفاء کی