خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 608
608 لئے اساتذہ رکھنے پڑیں۔لیکن ایسی نمایاں کوشش کیجئے قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا میں اپنے شہر میں ، اپنے قصبے میں، اپنے گاؤں میں پھیلانے کی کہ جس کا ایک معین نتیجہ سامنے آئے۔اور پھر ضرورت ہے اپنے بچوں اور بچیوں کی تربیت کرنے کی۔ان میں نظم و ضبط کی عادت ڈالنے کی۔دوران اجتماع یہ شکایت ملتی رہی ہے کہ کل شوری میں بھی میں نے اس کا ذکر کیا تھا کہ کھانے کے وقت بڑی بدنظمی کا مظاہرہ ہوا ہے۔کھانا پکتا ہے ہر ایک نے کھانا ہے اور ہر ایک کو مل جاتا ہے۔صرف فرق اتنا ہے کہ ہر ایک یہ کوشش کرتی ہے کہ میں پہلے آؤں اور اس دوڑ میں جو نتیجہ نکلتا ہے کہ اس میں پاؤں بھی کچلے جاتے ہیں۔کل میرے بھی کچلے گئے۔ابھی تک پاؤں میں درد ہورہی ہے۔ایک کی جوتی دوسری پر پڑتی ہے دھکے دیتی ہیں۔اس میں زیادہ تعداد خواتین کی نہیں ہوتی۔کل میں نے دیکھ لیا ہے خواتین بالکل دھکے نہیں دے رہی تھیں تمام کی تمام نو عمر لڑ کیاں تھیں۔بیشک بھوک لگی ہوگی۔ہم بھی کام کرتے ہیں۔سب سے آخر میں کھانا کھاتی ہوں۔کئی دفعہ نہیں بھی کھاتی۔اور ساری کارکنات جو کام کر رہی ہوتی ہیں اس وقت کھاتی ہیں جب انہیں پتہ چل جائے کہ ایک ایک مہمان کھانا کھا چکا ہے۔لیکن اگر یہی بچیاں قطار سے کھڑی ہو جائیں پہلے اپنی بزرگوں کو گزرنے کا موقع دیں۔قرآن نے بھی تو بزرگی کا معیار یا تو تقویٰ رکھا ہے یا پھر ان کی عمر کی بزرگی۔بہر حال ہر بچی کو احترام ہونا چاہئے۔تربیت کریں اپنی بچیوں کی۔خواہ کھانے کا وقت ہو، خواہ کھیل کا وقت ہو، خواہ جلسوں کے اوقات ہوں ان کے اندر ایک نظام ہونا چاہئے۔ان کے اندر ایک تہذیب ہونی چاہئے۔ان کے اندر وقار ہونا چاہئے۔کسی جگہ بھی وقار کو کھونا ایک زندہ رہنے والی قوم کے شایان شان نہیں۔یہ بہت بڑی چیز ہے جس کو پیدا کرنا ہمیں اپنی نئی نسل میں ضروری ہے۔جو قوم اپنی عزت آپ نہیں کرتی اور اپنا وقار ہاتھ سے کھو دیتی ہے۔دنیا بھی اس کی عزت نہیں کرتی۔میں چند ضروری باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنی تقریر کوختم کرتی ہوں۔میں پہلے دن بھی چندہ تحریک خاص کی طرف توجہ دلا چکی ہوں۔پھر اس سال خصوصی طور پر آپ اس چندہ کی طرف زیادہ توجہ دیں۔سب سے اہم کام سمجھتے ہوئے کیونکہ ایک معین سکیم رات آپ کے سامنے پیش کی جا چکی ہے کہ 1972ء کے جلسہ تک ہم نے بہت سے کام سرانجام دینے ہیں۔ان کے لئے بہر حال ہمیں پیسے کی ضرورت ہے۔اگر ہم یہ کوشش کریں کہ ہماری ہر کارکن تھوڑا دے یا زیادہ۔چندہ تو اس نے اپنی استطاعت کے مطابق دینا ہے۔لیکن شامل ضرور ہو۔نادہندوں میں سے نہ ہو تو میں سمجھتی ہوں کہ جلسه تک کم از کم یہ چار لاکھ کی رقم جمع ہوسکتی ہے۔