خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 44
مختلف قوی کی مخلوق کو ایک ہی تعلیم کے نیچے رکھنا اور پھر ان سب کی تربیت کر کے دکھا دینا اور وہ تربیت بھی کوئی جسمانی نہیں بلکہ روحانی تربیت، خداشناسی اور معرفت کی باریک سے باریک باتوں اور اسرار سے پورا واقف بنادینا اور نری تعلیم ہی نہیں بلکہ عامل بھی بنا دینا یہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 421-422 نیا ایڈیشن کے اسلامی تعلیم کا وسیع اثر : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کسی نبی یا کسی مذہب نے اس عالمگیر مساوات اور انسانی اخوت کی تعلیم نہیں دی۔اسی تعلیم نے آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں وہ جذ بہ عشق پیدا کر دیا کہ انہوں نے توحید کی خاطر ہر قسم کی تکلیف اُٹھائی۔ماریں کھائیں جلتے ہوئے پتھروں پر گھسیٹے گئے قتل ہوئے عورتوں کو بے عزت کیا گیا۔مگر اللہ تعالیٰ پر جو ایمان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عشق ان کے دلوں میں پیدا ہو چکا تھا۔اس میں بال نہ آسکا۔کیا ہی اعلیٰ درجہ کی قوت قدسیہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوعطا فرمائی تھی کہ آپ پر ایمان لا کر صحابہ نے اپنے خون سے دین پر مہر لگادی۔وہی لوگ جب شرک سے بے زار ہوئے اور توحید کی دولت سے مالا مال تو ہر وقت یہی خیال غالب تھا کہ توحید غالب ہو۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر و بن العاص کی وفات کا وقت آیا تو رونے لگے۔حضرت عبداللہ ان کے صاحبزادے نے کہا کہ آپ روئے کیوں ہیں۔آپ نے فتوحات کیں نیک کام کئے تو آپ نے جواب دیا تم نے سب سے بہتر چیز شہادت لا اله الا اللہ کو تو چھوڑ ہی دیا۔جولوگ ہر وقت شراب کے نشے میں چور رہتے تھے اور شراب پینے پر فخر کرتے تھے جن کے قصیدوں کا بیشتر حصہ شراب کی تعریف اور اس کے پینے پلانے کے ذکر سے پر ہوتا تھا اب وہ محبت الہی کی شراب پینے لگے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔تَرَكُوا الْغَبُوقَ وَبَدَّلُوا مِنْ ذَوْقِهِ ذَوُقَ الدُّعَاءِ بِلَيْلَةِ الْأَحْزَانِ ترجمہ: انہوں نے شام کی شراب چھوڑ دی اور اس کے ذوق کی جگہ غم کی راتوں میں دعا کی لذت اختیار کر لی اور جس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ آج سے شراب تم پر حرام کی جاتی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ لوگوں نے اپنے ملکے تو ڑ دیئے شراب مدینہ کی گلیوں میں بہتی پھرتی تھی۔اس دن