خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 43
ترجمہ: اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے ایک قوم کو پایا جو گو بر کی طرح ذلیل تھل۔مگر آپ نے اپنی قوت قدسیہ کے ذریعہ اس کو سونے کی ڈلی کی مانند بنادیا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ آنحضرت ﷺ نے عرب کے ان لوگوں میں جن میں انتہا درجہ پر نسلی تعصب پایا جاتا تھا اِنّى رَسُولُ اللهُ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا الاعراف: 159 کا اعلان کر کے فیصلہ فرما دیا کہ میں سب کے لئے رسول ہوں اور خدا کے سب بندے ایک جیسے ہیں۔آپ نے دنیا کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم سنایا کہ يَايُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَّ انْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمُ - الحجرات : 14 کہ سب انسان ایک ہی جیسے ہیں ان میں خاندان اور قبیلے محض شناخت کے لئے بنائے گئے ہیں۔ور نہ کسی کو کسی پر فضیلت اس لئے نہیں کہ وہ اعلیٰ خاندانوں سے ہے۔کسی کو اس لئے فضلیت حاصل نہیں کہ وہ مالدار ہے بلکہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمُ (الحجرات: 14) تم میں سے جو سب سے زیادہ پاکیزہ اور متقی ہے وہی سب سے زیادہ قابل احترام ہے۔آپ نے نہ صرف زبانی تعلیم دی بلکہ حضرت زینب کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زیڈ سے کر کے اپنی اس تعلیم کا عملی ثبوت بھی بہم پہنچادیا اور حضرت عائشہ کے قول پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وہی ہیں جن کی قرآن تعلیم دیتا ہے اپنے عمل سے مہر لگادی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔رسول اللہ میں وہ ساری قوتیں اور طاقتیں رکھی گئی ہیں جو محمد ﷺ بنادیتی ہیں تا کہ بالقوۃ باتیں بالفعل میں بھی آجاویں۔اس لئے آپ ﷺ نے یہ دعویٰ کیا کہ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ اَلِيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: 159) ایک قوم کے ساتھ جو مشقت کرنی پڑتی ہے تو کس قدر مشکلات پیش آتی۔ایک خدمت گار شریر ہو تو اس کا درست کرنا مشکل ہو جاتا ہے مگر وہ جو مختلف قوموں کی اصلاح کیلئے بھیجا گیا۔سوچو تو سہی کس قدر کامل اور زبر دست قومی کا مالک ہوگا۔مختلف طبیعت کے لوگ مختلف عمروں، مختلف ملکوں، مختلف خیال،