خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 547 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 547

547 اللہ تعالیٰ کے بیشمار انعامات اور احسانات کی بارش تم پر ہوتی رہے گی۔غیر ممالک میں آج لجنہ اماء اللہ میں ایسی خواتین شامل ہو چکی ہیں۔جن کے دلوں میں ایمان کی شمع فروزاں ہو چکی ہے جو ان کو ہر وقت قربانیوں کیلئے آمادہ اور بے قرار رکھتی ہے اور انہوں نے ہر اس تحریک میں حصہ لیا ہے۔جس میں حصہ لینے کی سعادت پاکستانی احمدی بہنوں کو عطا ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انعام خلافت کو ایمان بالخلافت اور اس کے مطابق ایمان صالحہ بجالانے سے مشروط فرمایا ہے۔لہذا آج آپ کا فرض ہے کہ نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنی اولاد کو بھی ہر وقت ہر قربانی کے لئے تیار کریں۔حضرت مصلح موعود نے مسجد النڈن اور مسجد برلن کی تحریک کی تو مستورات نے عظیم مالی قربانی کا مظاہرہ کیا۔تحریک جدید میں بھی خواتین نے بڑی فراخدلی اور بشاشت سے حصہ لیا۔1944 ء میں حضور نے جرمن زبان میں قرآن پاک کے ترجمہ کے لئے 28000 (اٹھائیس ہزار ) روپے کی تحریک کی تو جماعت احمدیہ کی خواتین نے پینتیس ہزار روپیہ آپ کی خدمت میں پیش کر کے اعلیٰ قربانی کا ثبوت دیا۔لجنہ اماء اللہ کے ہال تعمیر پر حضرت مصلح موعود نے اظہار خوشنودی فرمایا پھر 1964ء میں اللہ تعالیٰ سے توفیق پا کر اور حضرت مصلح موعود کی اجازت سے میں نے بیت نصرت جہاں کی تحریک کی تو جماعت کی خواتین نے جس قربانی اور خلوص کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ احمدیت میں ہمیشہ درخشاں رہے گی۔لجنہ اماءاللہ کے قیام پر آج چھیالیس سال گذر چکے ہیں۔1972ء کے اجتماع پر اس انجمن کو قائم ہوئے انشاء اللہ پورے پچاس برس ہو جائیں گے۔لہذا میری تمنا اور خواہش ہے کہ 1972 ء کا لجنہ کا اجتماع خاص شان اور وقار کا حامل ہو اور اگر ہماری بہنیں پسند کریں تو یہ تقریب جلسہ سالانہ پر بھی ملتوی کی جاسکتی ہے۔میں اس تقریب کے پیش نظر 5 لاکھ روپیہ کی تحریک پیش کرتی ہوں اور یہ اعلان کرتی ہوں کہ یہ رقم چار سال کے اندر جمع کی جائے۔اس سکیم کی اولین شق یہ ہوگی کہ ایک لاکھ روپیہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں اس غرض سے پیش کیا جائے گا کہ آپ کسی ایک غیر زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کروا دیں۔یہ ایک لاکھ روپیہ 1969ء کے جلسہ سالانہ تک جمع ہو جانا چاہئے۔دوسری اہم چیز دفتر اور لجنہ ہال کی تعمیر و توسیع ہے کیونکہ مرکز کی مضبوطی کے لئے یہ ایک ناگزیر امر ہے۔تیسری چیز جو اس سکیم میں شامل ہوئی وہ لجنہ اماءاللہ کی پچاس سالہ تاریخ کا لکھنا ہے۔جوانشاء اللہ تعالیٰ کوشش کی جائے گی کہ وہ لکھ کر 1972ء تک مکمل شائع ہو جائے۔اس چندہ کا نام چندہ تحریک خاص لجنہ اماءاللہ