خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 542 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 542

542 کہ کفر اور نافرمانی اور حد سے گزر جانے کے متعلق تمہارے دلوں میں نفرت کے جذبات پیدا کئے ہیں۔کتنا اعلیٰ اور خوبصورت فلسفہ ہے نفرت کا بھی جو اسلام نے پیش فرمایا ہے۔بڑے سے بڑے دشمن کو معاف فرمانے اور درگذر کرنے کا ارشاد فرمایا۔لیکن ساتھ ہی اطاعت نظام سے نکل جانے والے کے متعلق نفرت کے جذبات رکھنا ضرور قرار دیا ہے کیونکہ جو خلیفہ وقت یا حکام وقت یا امرائے سلسلہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ دراصل نظام کی جڑیں کاٹ رہا ہوتا ہے۔ذاتی دشمنی اور چیز ہے۔لیکن نظام میں رہتے ہوئے نظام کے خلاف چلنے والے کی دوستی قرآنی تعلیم کے خلاف ہے اسلام کہتا ہے کہ بُرے سے بُرے آدمی سے بھی نفرت نہ کرو اس کی خیر خواہی کرو لیکن اس کی بدی کی حالت اور گناہ کے فعل سے نفرت کرو۔یہی اصل خلق ہے۔میری عزیز بہنو! یہ دنیا دار العمل ہے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے دلکشی کے سامان اس لئے پیدا کئے ہیں تا اس دنیا میں رہتے ہوئے ہم ثابت کر سکیں کہ ہمارے لئے سب سے زیادہ کشش اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے اور اس کی رضا پر چلنے میں ہے یا دنیا کی بظاہر حسین چیزوں کے حاصل کرنے میں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (سورة الكهف آيت 8) کہ ہم نے دنیا میں ہر قسم کی اعلیٰ سے اعلیٰ چیزیں اس غرض سے پیدا کی ہیں تا کہ ہم دیکھیں کہ کون خوبصورت عمل کرتا ہے۔کون اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے میں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اور کون اس نور سے فائدہ حاصل نہیں کرتا بلکہ دنیا کی طرف گرتا ہے۔آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی صفات کے کامل مظہر بن کر دنیا میں آئے تھے اور آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلنے سے ہم اللہ تعالیٰ کی صفات اپنے میں پیدا کر سکتے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ ہر وقت اس کوشش میں لگے رہیں کہ وہ اخلاق فاضلہ ہم میں پیدا ہوں جن کی تعلیم اپنے عملی نمونہ سے آنحضرت ﷺ نے ہمیں دی اور وہی دن ہمارے لئے کامیابی کا دن اور ہماری تہذیب کو دنیا کے سامنے ایک مثالی تہذیب کے طور پر پیش کرنے کا دن ہوگا جس دن ہمارا ہر فرد خواہ مرد ہو یا عورت لڑکا ہو یا لڑ کی قرآن کی تعلیم اور آنحضرت ﷺ کے نمونہ کے مطابق زندگی بسر کرنے والا ہوگا۔خدا کرے وہ دن جلد آئے جب ہر احمدی عورت کا کردار عین قرآن کے مطابق ہو اور اس کی گود سے ایسے مجاہدین اسلام پرورش پا کر جوان ہوں جو نمونہ ہوں اپنی قربانیوں اور اپنے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کا۔جو نمونہ ہوں حضرت عثمان اور علی کا جو نمونہ ہوں حضرت طلحہ اور زبیر کا جو نمونہ ہوں حضرت خالد بن ولید اور محمد بن قاسم کا۔پس ضرورت ہے اور بہت بڑا کام ہے ممبرات لجنہ اماءاللہ کا کہ وہ تربیت کی