خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 493 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 493

493 کی وجہ سے ہوتی ہے۔خوف پیدا کرنے کے لئے معرفت الہی کی ضرورت ہے۔جتنی اللہ تعالیٰ کی معرفت زیادہ ہوگی اسی قدر خوف بھی ہوگا۔ہر کہ عارف تر است ترساں تر انسان جو اللہ تعالیٰ کے احکام توڑتا ہے صرف اسی وجہ سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت نہیں رکھتا۔پس اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کریں جس کے نتیجہ میں اس کی معرفت حاصل ہو اس سے انتہائی محبت بھی کریں اور انتہائی طور پر ڈریں بھی کہ یہی حقیقی مقام ایمان کا ہے۔اللہ تعالیٰ کے خوف کی پر کھ یہ ہے کہ انسان دیکھتا ہے کہ اس کا قوم و فعل کہاں تک ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہے۔اگر قول اور فعل یکساں نہیں تو اس کو ڈرتے رہنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی گرفت میں نہ آجائے۔حضرت خلیفۃ اصبح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 21اکتوبر 1967ء کو لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے اجتماع میں تقریر فرماتے ہوئے اسی مضمون کو بیان فرمایا تھا فرماتے ہیں: غرض اسلام کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایک مسلمان حقیقی معنی میں مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا نہ ہو۔اور ایک مسلمان حقیقی معنی میں مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک خشیت اللہ اس کے اندر رچ نہ جائے۔جب تک اتباع نبی اکرم ﷺ کو وہ مضبوطی سے پکڑ نہ لے۔باقی ساری تعلیم جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے وہ اسی نقطہ کے گرد گھومتی ہے کیونکہ جب ہمارے دل میں خوف خدا پیدا ہو جائے گا تو ہم اس نہی سے بچیں گے جس سے قرآن کریم نے ہمیں روکا ہے۔اور اگر حقیقی خشیت اللہ ہمارے دل میں پیدا ہو جائے گی تو ہم اس راہ پر چلنے کے لئے بشاشت کے ساتھ تیار ہوں گے جو اہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والی ہے۔“ المصابیح صفحہ : 82 83 اسی تقریر کے دوران حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا تھا: دو پہلی ذمہ داری تو مثلاً یہی ہے کہ ہمارے دل میں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کا خوف باقی نہ رہے جس کے معنے یہ ہیں کہ سوائے خدا کی باتوں کے ہم کسی کی بات ماننے کے لئے تیار نہ ہوں جس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے اندر کوئی رسم و رواج نہ ہو کیونکہ تمام رسوم غیر اللہ کے خوف کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔“ (المصابیح صفحہ 85) تو گل: توگل جب اللہ تعالیٰ کا کامل خوف دل میں پیدا ہو جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر نشان اور آیت