خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 492 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 492

492 خشیت الہی کی اہمیت:۔سورہ انفال کی مذکورہ آیات میں سچے مومنین کے لئے پانچویں اور چھٹی شرط یہ بیان کی گئی ہے کہ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا (الانفال: 3) کامل مومن تو صرف وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں اس درجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔خشیت الہی وہ ستون ہے جس پر تقویٰ کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللهِ ذَالِكَ هُدَى اللهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَّشَآءُ (الزمر: 24) (ترجمہ) جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے جسموں کے رونگٹے اس کے (یعنی قرآن مجید) کے پڑھنے سے کھڑے ہو جاتے ہیں پھر ان کے چڑے اور دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف جھک جاتے ہیں قرآن اللہ کی ہدایت ہے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔پس ہدایت یافتہ ہونے کے لئے خشیت الہی کا ہونا بہت ضروری ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید اس طرح پڑھنا چاہئے کہ جب رحمت کی آیات کا ذکر ہو تو اللہ تعالیٰ سے رحمت کا طالب ہو اور جب عذاب کی آیات پڑھے تو اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے عذاب سے پناہ مانگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”دیکھو یا درکھنے کا مقام ہے کہ بیعت کے چند الفاظ جو زبان سے کہتے ہو کہ میں گناہ سے پر ہیز کروں گا یہی تمہارے لئے کافی نہیں ہیں اور نہ صرف ان کی تکرار سے خدا راضی ہوتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک تمہاری اس وقت قدر ہوگی جبکہ دلوں میں تبدیلی اور خدا تعالیٰ کا خوف ہو ورنہ ادھر بیعت کی اور جب گھر میں گئے تو وہی بُرے خیالات اور حالات رہے تو اس سے کیا فائدہ؟ یقیناً مان لو کہ تمام گنا ہوں سے بچنے کے لئے بڑا ذریعہ خوف الہی ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 95) انسان آگ میں کبھی ہاتھ نہیں ڈالتا۔سانپ سے دور بھاگتا ہے کیوں؟ اس لئے کہ وہ جانتا ہے آگ اس کا ہاتھ جلا دے گی۔سانپ اسے کاٹ لے گا۔اس طرح گناہ پر دلیری بھی خدا کا خوف دل میں نہ ہونے