خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 31 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 31

31 اس کی غرض یہ ہے کہ عورت کی زینت کو ظاہر نہ کرے سوائے ان لوگوں کے جن کے سامنے زینت کے اظہار کرنے کی قرآن مجید میں اجازت ہے۔ہماری جماعت کی مستورات کو ایسے برقعے پہنے سے احتراز کرنا چاہئے۔بخاری کی ایک حدیث اس عقیدہ کے متعلق کہ چہرہ کا پردہ ہے یا نہیں ایک فیصلہ کن حدیث ہے اور اس حدیث میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے۔یہ پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد کا واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ حدیث یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ قبیلہ بنو مصطلق کی شرارتوں کے انسداد کے لئے مدینہ سے نکلے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے ہمراہ تھیں۔سفر سے واپسی پر ایک جگہ رات کے وقت آرام کی خاطر قیام فرمایا۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ میں رفع حاجت کے لئے ایک طرف گئی۔واپس آ کر مجھے معلوم ہوا کہ میرے گلے کا ہار غائب ہے اس خیال سے کہ میرا ہارگر نہ گیا ہو۔میں پھر اسی طرف واپس گئی۔اسی اثنا میں آنحضرت ﷺ نے روانگی کا حکم فرما دیا۔لوگوں نے حضرت عائشہ کا خالی کجاوہ اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا۔اس زمانہ میں حضرت عائشہ کی عمر چھوٹی اور جسم دبلا تھا۔کجاوہ اٹھا کر لانے والوں کو اس بات کا احساس نہ ہوا کہ وہ خالی ہے۔قافلہ روانہ ہو گیا۔اور حضرت عائشہ پیچھے رہ گئیں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ قافلہ روانہ ہو چکا ہے تو میں بہت گھبرائی۔میں نے یہی مناسب سمجھا کہ اب یہاں سے چلنا ٹھیک نہیں۔کیونکہ جب آنحضرت ﷺ کو میرے پیچھے رہنے کا علم ہوگا تو آپ کے ضرور اس جگہ تشریف لائیں گے۔چنانچہ میں وہیں بیٹھی رہی۔بیٹی کہ مجھے نیند آگئی۔صبح کے قریب ایک صحابی صفوان بن معطل وہاں پہنچے۔آنحضرت ﷺ نے آپ کو قافلہ سے پیچھے رہنے کا اس لئے حکم دیا تھا تا گری پڑی چیزوں کا خیال رکھیں۔جب صفوان نے مجھے وہاں اکیلے سوئے ہوئے دیکھا تو فوراً پہچان لیا۔کیونکہ وہ پردہ کے احکام نازل ہونے سے قبل مجھے دیکھ چکے ہوئے تھے۔انہوں نے گھبرا کر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا۔ان کی آواز سے میں جاگ پڑی اور میں نے جھٹ اپنا منہ چادر سے ڈھانپ لیا۔پھر انہوں نے اونٹ پر مجھے بٹھا کر اور خود ساتھ پیدل چل کر قافلہ تک پہنچا دیا۔( بخاری کتاب الشهادات ) یہ حدیث بخاری کی ہے جو اسلام میں قرآن مجید کے بعد کتب میں سب سے بڑا درجہ رکھتی ہے اور اس کی راو یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہے۔جن کے متعلق خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ نصف دین عائشہؓ سے سیکھو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ سے فَعَرَفَنِي حِيْنَ رَانِي وَكَانَ رَانِي قَبْلَ الحِجَاب - ( صحیح بخاری کتاب المغازی) یعنی صفوان نے مجھے دیکھ کر اس لئے پہچان لیا کہ وہ پر دے ย