خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 411 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 411

411 تعویذ کے متعلق اپنے عمل سے حضور نے وضاحت فرمائی کہ نا جائز ہے۔ایک شخص نے اپنی کچھ حاجات تحریری طور پر پیش کیں۔حضرت اقدس نے پڑھ کر فرمایا کہ اچھا ہم دعا کریں گے۔“ اس پر وہ شخص بولا کہ حضور کوئی تعویذ نہیں کیا کرتے؟ فرمایا: تعویذ گنڈے کرنا ہمارا کام نہیں ہمارا کام تو صرف اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنا ہے۔“ ملفوظات جلد پنجم صفحه 505 خودتراشیدہ وظائف کے متعلق حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اپنی شامت اعمال کو نہیں سوچا ان اعمال خیر کو جو پیغمبر ﷺ سے ملے تھے ترک کر دیا اور ان کی بجائے خود تراشیده درود و وظائف داخل کر لئے اور چند کافیوں کو حفظ کر لینا کافی سمجھا گیا۔بلہے شاہ کی کا فیوں پر وجد میں آجاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کا جہاں وعظ ہورہا ہو وہاں بہت ہی کم لوگ جمع ہوتے ہیں لیکن جہاں اس قسم کے مجمع ہوں وہاں ایک گروہ کثیر جمع ہو جاتا ہے۔نیکیوں کی طرف سے یہ کم رغبتی اور نفسانی اور شہوانی امور کی طرف توجہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ لذت روح اور لذت نفس میں ان لوگوں نے کوئی فرق نہیں سمجھا ہے۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 63 نیازوں کے متعلق آپ نے فرمایا یہ سب بدعتیں ہیں اور حرام ہیں ان کا کوئی ثبوت قرآن مجید ، احادیث اور سلف صالحین کے طریق سے ثابت نہیں۔آپ مزید فرماتے ہیں:۔” ہمارے گھروں میں شریعت کی پابندی کی بہت ستی کی جاتی ہے۔بعض عورتیں زکوۃ دینے کے لائق ہیں اور بہت سا زیور ان کے پاس ہے مگر وہ زکوۃ نہیں دیتیں۔بعض عورتیں نماز روزہ کے ادا کرنے میں بہت کو تا ہی کرتی ہیں۔بعض عورتیں شرک کی رسمیں بجا لاتی ہیں جیسے چیچک کی پوجا بعض فرضی دیویوں کی پوجا کرتی ہیں۔بعض ایسی نیازیں دیتی ہیں جن میں یہ شرط رکھ دیتی ہیں کہ عورتیں کھاویں کوئی مرد نہ کھاوے یا حقہ نوش نہ کھاوے۔بعض جمعرات کی چوکی بھرتی ہیں مگر یا درکھنا چاہئے کہ یہ سب شیطانی طریق ہیں۔ہم صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ان لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ آؤ خدا تعالیٰ سے ڈرو ورنہ مرنے کے بعد ذلت اور رسوائی سے سخت عذاب میں پڑو گے اور اس غضب الہی میں مبتلا ہو جاؤ گے جس کی انتہا نہیں۔“ ملفوظات جلد پنجم ص: 49 حضور نے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم پا کر بیعت لینی شروع کی تو شرائط بیعت میں سے ایک