خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 377 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 377

377 اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔چوتھی غرض اس پیشگوئی کی یہ بیان کی گئی تھی کہ تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں اور جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔پانچویں: غرض یہ بیان کی گئی تھی کہ تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔چھٹی غرض یہ بیان کی گئی تھی کہ تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور اس کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفی ﷺ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ایک کھلی نشانی ملے۔ساتویں: آپ نے بیان فرمایا کہ یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے تا کہ مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے اور پتہ لگ جائے کہ وہ جھوٹے ہیں۔“ دنیا جانتی ہے کہ یہ پیشگوئی کس شان سے پوری ہوئی حضرت مصلح موعود کی زندگی کا ایک ایک دن بلکہ ایک ایک لمحہ گواہ ہے اس بات کا کہ آپ کے ذریعہ سے اسلام کا غلبہ ہوا۔کلام اللہ کا مرتبہ بلند ہوا۔آنحضرت ﷺ کی شان بلند ہوئی۔انسان فانی ہے۔وہ اپنا کام کر کے اس دنیا سے جاتا ہے۔حضرت مصلح موعود بھی اپنا کام پورا کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔لیکن آپ کی وہ برکات جو اس پیشگوئی کے ساتھ وابستہ تھیں ختم نہیں ہوئیں۔جب تک زمین و آسمان قائم ہیں پیشگوئی مصلح موعود اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا کے سامنے اسلام ، آنحضرت ﷺ اور قرآن مجید کی صداقت کو ثابت کرتی رہے گی۔یہی سات اہم اغراض جو حضرت مصلح موعود نے پیشگوئی مصلح موعود کی بیان فرمائی تھیں۔حقیقت میں فضل عمر فاؤنڈیشن کی ہیں۔اور اسی غرض سے فضل عمر فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔تا حضرت مصلح موعود کے کاموں اور پروگراموں کو جاری رکھا جائے اور آپ کی ان خواہشات کو تکمیل تک پہنچایا جائے جو آپ کے دل میں پرورش پا رہی تھیں۔غرض فضل عمر فاؤنڈیشن کا قیام احسان ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ پر۔تا اس کے ذریعہ مصلح موعود کا نام زندہ رہے۔آپ کی برکات زندہ رہیں۔فضل عمر فاؤنڈیشن احسان ہے آپ کا ساری انسانیت پر۔تا اس کے ذریعہ ساری دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچے۔اور تشنہ لب روحیں صداقت کو پہچانیں۔فضل عمر فاؤنڈیشن عملی تشکیل ہے پیشگوئی مصلح موعود کی تا اس کے ذریعہ سے ہمیشہ