خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 371 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 371

371 افسوس ہے کہ باہر بہت سی بجنات ایسی ہیں جو بچیوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا انتظام نہیں کر سکیں شرم اور افسوس کی بات ہے۔بچیاں دوسری چیزوں اور مضامین فلمی گانے اور ریڈیو کے قصے کہانیاں تو یاد کر لیتی ہیں مگر وہ کتاب جس سے ہماری نجات وابستہ ہے اور جس سے ترقی کر سکتی ہیں جو خدا تعالیٰ کا ہماری طرف خط اور پیغام ہے اس کی طرف توجہ نہیں دیتیں۔قرآن کریم کو پڑھو۔اس پر عمل کرو اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالو۔آئندہ سال کے لئے میں نے یہ پروگرام بنایا ہے لجنات یہ کوشش کریں کہ بچیوں کو قرآن کریم پڑھانا ہے اور ہر ایک کام میں سو فیصدی معیار قائم کرنا ہے۔دوسری چیز یہ ہے کہ سیکرٹریان ناصرات آئندہ سال اس بات کی طرف توجہ دیں کہ بچیوں کے انعاموں کے لئے معیار صرف تقریری و تحریری مقابلے ہی نہ ہوں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ کون اچھی شہری۔اچھے اخلاق۔اور کردار کی مالک ہے۔اور اپنے نام کے مطابق ہے۔آپ کا دعویٰ تو یہ ہے کہ آپ ناصرات الاحمدیہ ہیں۔اس کے مطابق عمل بھی ہو۔اس کے لئے نگرانوں کو چاہئے کہ شروع سال ہی سے ایسے پروگرام مرتب کئے جائیں جو صرف تقریری مقابلوں کے ہی نہ ہوں بلکہ یہ دیکھا جائے اور پھر ایسے بچے کو سرٹیفیکیٹ دیا جائے کہ کون سچائی کے لحاظ سے۔دیانتداری کے لحاظ سے یا محنت کے لحاظ سے یا ہمدردی خلق کے لحاظ سے اور دوسرے کاموں میں بہترین ہے۔ناصرات کی نگرانوں کو چاہئے بچوں کو ایسا بنا ئیں کہ ہر بچی اچھی گھر یلوعورت سلیقہ مند سگھڑ ہو۔کھانا پکانے سلائی۔گھر کی سجاوٹ وغیرہ میں ماہر ہو۔آپ نے فرمایا تم لوگ ناصرات میں داخل ہو۔تمہیں ہر وقت اپنا عہد نامہ پیش نظر رکھنا چاہئیے اور اپنے آپ کو ہر وقت قوم اور مذہب اور وطن کی خدمت کے لئے تیار رکھنا چاہئیے تمہیں کیا معلوم کس وقت قوم سے قربانی کا مطالبہ کیا جائے۔تمہیں کیا معلوم کہ کس وقت مذہب تم سے قربانی کا مطالبہ کرے۔تمہیں یہ عہد کرنا چاہئے کہ جب بھی قربانی کا مطالبہ ہو تم لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھوگی۔تم دنیا کی تعلیم بھی حاصل کرو۔دینی تعلیم بھی حاصل کرو۔اور اپنے فرائض بھی ادا کرو۔آپ نے مزید فرمایا کہ لبنات کی رپورٹیں آتی ہیں جن میں بتایا ہوتا ہے کہ ہم نے اتنا چندہ دیا اور یہ کام کئے۔مگر سب سے کٹھن کام بچوں کی تربیت ہے۔اگر وہ بچیوں کی تربیت کی طرف توجہ نہیں دیتیں تو ہمارا کام اور رپورٹیں محض ایک رسمی چیز بن کے رہ جاتی ہے۔