خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 366
366 جائیں گی۔کسی نے نہیں پوچھنا کہ فلسفہ کی کتنی کتابیں رہیں۔اکنامکس یا دوسرے مضامین کی کتنی کتب یاد کیں۔باز پرس ہوگی تو صرف قرآن کی۔۔۔پس اسے پڑھو کہ ہر خیر و برکت اسی میں پائی جاتی ہے۔قرآن پڑھنے سے میری مراد یہ نہیں کہ اسے اندھا دھند پڑھتی چلی جائیں۔بلکہ ہمیشہ فہم و تدبر کیساتھ پڑھا کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک بار ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا کہ قرآن کریم کو کیسے پڑھنا چاہئے اس پر حضرت اقدس نے فرمایا: قرآن شریف کو تدبر و تفکر د غور سے پڑھنا چاہئے حدیث شریف میں آیا ہے رُبِّ قَارٍ يَلْعَنُهُ القُرآنُ۔یعنی بہت ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا۔اس پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر گزر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوئے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے۔اور تدبر اور غور سے پڑھنا چاہئے۔اور اس پر عمل کیا جاوے۔“ ملفوظات جلد پنجم صفحه 157 کلاس کے افتتاح کے روز حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ تعال نے دس علوم کا ذکر کیا تھا۔اور فرمایا تھاکہ قرآن کریم کو پڑھتے وقت اپنے ذہن میں سوچا کریں کہ فلاں آیت کس علم کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر طلباء اور طالبات روز کے سبق پڑھتے وقت اس چیز کو مد نظر رکھیں گے تو اللہ تعالی علوم کے دروازے ان پر کھولے گا۔لیکن اب اگر کلاس کے دوران آپ نے ایسا نہیں کیا تو میں دوبارہ اس طرف توجہ دلاتی ہوں کہ دہرائی کرتے وقت ضرور ان باتوں کا خیال رکھیں۔قرآن کریم کو سمجھنے اور اس کے معارف حاصل کرنے کے متعلق حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے تفسیر کبیر میں تین ماخذوں کا ذکر کیا ہے۔ان سے بھی آپ کام لیں۔حضور فرماتے ہیں : ”اب میں ان ماخذوں کا ذکر کرتا ہوں جن سے نفع ہوا۔اور سب سے پہلے اس ازلی ابدی ماخذ علوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس سے سب علوم نکلتے ہیں اور جس کے با ہر کوئی علم نہیں وہ علیم ہی سب علم بخشتا ہے۔اس نے اپنے فضل سے مجھے قرآن کریم کی سمجھ دی اور اس کے بہت سے علوم مجھ پر کھولے۔“