خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 365
365 عطا کردہ تلوار جس کو بروئے کار لا کر تم ہر مخالف پر غالب آ سکتی ہو۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں: ” خدا نے ہمیں وہ تلوار دی ہے جسے کبھی زنگ نہیں لگتا اور جو کسی لڑائی میں بھی نہیں ٹوٹ سکتی۔تیرہ سو سال گزر گئے اور دنیا کی سخت سے سخت قوموں نے چاہا کہ وہ اس تلوار کو توڑ دیں۔اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور اسے ہمیشہ کے لئے ناکارہ بنا دیں۔مگر دنیا جانتی ہے کہ جو قوم اس کو توڑنے کے لئے آگے بڑھی وہ خود ٹوٹ گئی مگر یہ تلوار ان سے نہ ٹوٹ سکی۔یہ وہ قرآن ہے جو خدا نے ہم کو دیا ہے اور یہ وہ تلوار ہے جس سے ہم ساری دنیا کو فتح کر سکتے ہیں فرماتا ہے جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا - (الفرقان) : (52) تلوار کا جہاد اور دوسرے اور جہادسب چھوٹے ہیں۔قرآن کا جہاد ہی ہے جو سب سے بڑا اور عظیم الشان جہاد ہے۔یہ وہ تلوار ہے کہ جو شخص اس پر پڑے گا اس کا سر کاٹا جائے گا۔اور جس پر یہ پڑے گی وہ بھی مارا جائے گا۔یا مسلمانوں کی غلامی اختیار کرنے پر مجبور ہوگا۔اگر تیرہ سوسال میں بھی ساری دنیا میں اسلام نہیں پھیلا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ تلوار کند تھی۔بلکہ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں نے اس تلوار سے کام لینا چھوڑ دیا۔آج خدا نے پھر احمدیت کو یہ تلوار دے کر کھڑا کیا ہے اور پھر اپنے دین کو دنیا کے تمام ادیان پر غالب کرنے کا ارادہ کیا ہے۔مگر نادان اور احمق مسلمان احمدیت پر حملہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ احمدی جہاد کے قائل نہیں۔“ سیر روحانی مجموعہ تقاریر صفحہ 264 265 حضرت خلیفہ مسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی حال ہی میں قرآن کریم ناظرہ اور با ترجمہ سیکھنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔قرآنی تعلیمات کا مرکزی نکتہ اگر چہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانا ہے لیکن ایمان کا ذکر کبھی اکیلے نہیں آیا۔بلکہ ہمیشہ اعمال صالحہ کے ساتھ اور اعمال صالحہ وہی ہوتے ہیں جو مناسب حال اور وقت کے مطابق ہوں۔لہذا خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہہ کر ہی آپ اعمال صالحہ بجالا سکتی ہیں اور اسی میں فلاح و کامیابی ہے۔اس وقت آپ کے امام کا سب سے اہم حکم یہی ہے کہ قران کریم کو پڑھیں اور پڑھائیں۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ گنتی کی لجنات ایسی ہیں جہان سو فیصد نمبرات ناظرہ جانتی ہوں۔بعض شہروں کی رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ ابھی ہماری جماعت میں بعض ایسی نوجوان لڑکیاں بھی موجود ہیں جن کو قرآن کریم ناظرہ نہیں آتا۔حالانکہ وہ دنیوی ڈگریاں حاصل کرنے کے لئے دن رات محنت کرتی ہیں۔لیکن میری عزیز بچیو! ساتھ اگر کچھ جائے گا تو یہی قرآن جائے گا۔سب ڈگریاں یہیں دھری رہ