خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 361 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 361

361 اور کن باتوں سے منع فرمایا ہے کہ دیکھو مسلمان بچو تم نے یہ یہ باتیں نہیں کر نہیں تو ممکن ہی نہیں کہ پھر تم ان کو کرنے کی جرات بھی کرو۔آخر تم مسلمان ہو تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہے۔آنحضرت ﷺ کی محبت ہے۔جس بچہ کے دل میں خدا تعالیٰ سے محبت ہو اور خدا تعالیٰ کے رسول سے محبت ہوتو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ بچہ آپ کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔کبھی نہیں کرے گا۔صرف غلطی ہماری ہے کہ ہم نے تمہیں شروع سے ترجمہ نہیں پڑھایا۔جب ہم تمہیں ترجمہ پڑھالیں گی تو پھر ہم امید رکھتی ہیں کہ ہر بچہ کا اس پر عمل بھی ہوگا۔میں دعا کرتی ہوں کہ تم پھول اور پھلو۔آئیندہ آنے والی نسلوں کے تم لیڈر بنو اور وہ تمہاری پیروی کرنے اور تمہارے نقش قدم پر چلنے میں فخر محسوس کریں۔اور یہ سکول اتنا ترقی کرے کہ لوگ آئیں اور ہمیں انکار کرنا پڑے کہ ہم اتنے بچوں کو داخل نہیں کر سکتے۔لیکن ان کا اصرار یہی ہو کہ ہم نے یہیں پڑھوانا ہے۔کیونکہ یہاں قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے یہاں حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے۔یہاں بچوں میں اسلامی اخلاق پیدا کئے جاتے ہیں۔ان کا کردار بنتا ہے اور یہاں بچیان پڑھ کر بے پردہ نہیں ہو سکتیں۔جہاں میں نے بچوں اور بچیوں کو نصائح کی ہیں وہاں اساتذہ کو بھی نصیحت کرتی ہوں کہ تربیت کرنے کا بہترین گر اپنا نمونہ اعلیٰ پیش کرنا ہے اپنا لباس۔اپنا طریق کلام۔اٹھنا بیٹھنا۔غرض ہر فعل ایسا ہو کہ بچہ اس کی نقل کرے اور بچے تو ہوتے ہی نقال ہیں وہ اپنے ماں باپ کی نقل کرتے ہیں۔بہن بھائیوں دوستوں کی نقل کرتے ہیں۔آپ کی بھی ضرور کریں گے لیکن اگر آپ کا نمونہ ان اقدار کا حامل نہیں ہوگا۔جس غرض سے یہ سکول قائم کیا گیا ہے تو پھر اس ادارہ کے قیام کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔اس لئے میں معلمات کو پھر توجہ دلاتی ہوں کہ آپ کو بہت عظیم الشان ذمہ داری سونپی گئی ہے۔آپ کے سپرد کر کے ان کے ماں باپ بے فکر ہیں کہ اب آپ ان کو سنبھالیں گی۔اس لئے آپ کے پاس سب سے آسان اور مجرب نسخہ یہی ہے کہ اپنا نمونہ ایسا دکھائیں جو عین شریعت اسلامی کے مطابق ہو جو ہماری روایات کے مطابق ہو۔جو ہماری مشرقی اقدار کے مطابق ہو۔جو قرآن مجید اور حدیث کی تعلیم کے مطابق ہو۔پھر آپ دیکھیں گی کہ یہ نھی منی کلیاں کیسے لہلہاتے ہوئے پھول بنیں گے۔جس کی خوشبو سے ساری دنیا معطر ہو جائے گی۔آمین الھم آمین مصباح ستمبر 1966ء)